عراق پر امریکہ، ایران مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے کہا ہے کہ وہ عراق میں تشدد کے خاتمے کے لیے امریکہ سے بات چیت کرے گا۔ یہ مذاکرات بارہ فروری سے شروع ہوں گے۔ اس مسئلے پر امریکہ اور ایران کے درمیان تین مرتبہ پہلے بھی مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ مذاکرات کے ہر دور میں فریقین نے ایک دوسرے کو عراق میں مسلسل تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ امریکہ ایران پر الزام لگاتا ہے کہ وہ عراق میں ریڈیکل شیعہ گروپوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے عراق میں تشدد کی اصل وجہ امریکی فوج کا وہاں قیام ہے۔ عراق میں امریکی سفیر ریان کروکر اور ان کے ایرانی ہم منصب حسن کاظمی قمی نے گزشتہ برس مئی اور جولائی کے مہینوں میں ایک دوسرے سے بات چیت کی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان ستائیس برسوں میں پہلی بار ایسے مذاکرات ہوئے تھے۔ گزشتہ سال اگست میں دنوں ممالک کے اعلیٰ سطحی حکام نے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ لیکن بات چیت کے ان تینوں ادوار میں کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور عراق میں تشدد اب تک جاری ہے اگرچہ اس میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں امریکہ نے الزام لگایا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ شدت پسندوں نے بغداد میں جانورں کی ایک مارکیٹ میں بم حملہ کیا تھا جس سے تیرہ افراد مارے گئے تھے۔ | اسی بارے میں بغداد: بمباری، 30 شدت پسند ہلاک08 August, 2007 | آس پاس عراقی حکومت کو شدید دھچکا07 August, 2007 | آس پاس سنی وزراء استعفے واپس لیں: مالکی05 August, 2007 | آس پاس اقوامِ متحدہ: وسیع تر کردار پر قرارداد02 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||