BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 February, 2008, 03:13 GMT 08:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق پر امریکہ، ایران مذاکرات
دونوں ملکوں کے درمیان عراق پر پہلے بھی مذاکرات ہوئے ہیں لیکن ان میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی
ایران نے کہا ہے کہ وہ عراق میں تشدد کے خاتمے کے لیے امریکہ سے بات چیت کرے گا۔ یہ مذاکرات بارہ فروری سے شروع ہوں گے۔

اس مسئلے پر امریکہ اور ایران کے درمیان تین مرتبہ پہلے بھی مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ مذاکرات کے ہر دور میں فریقین نے ایک دوسرے کو عراق میں مسلسل تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

امریکہ ایران پر الزام لگاتا ہے کہ وہ عراق میں ریڈیکل شیعہ گروپوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے عراق میں تشدد کی اصل وجہ امریکی فوج کا وہاں قیام ہے۔

عراق میں امریکی سفیر ریان کروکر اور ان کے ایرانی ہم منصب حسن کاظمی قمی نے گزشتہ برس مئی اور جولائی کے مہینوں میں ایک دوسرے سے بات چیت کی تھی۔

دونوں ملکوں کے درمیان ستائیس برسوں میں پہلی بار ایسے مذاکرات ہوئے تھے۔

گزشتہ سال اگست میں دنوں ممالک کے اعلیٰ سطحی حکام نے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

لیکن بات چیت کے ان تینوں ادوار میں کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور عراق میں تشدد اب تک جاری ہے اگرچہ اس میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔

گزشتہ برس نومبر میں امریکہ نے الزام لگایا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ شدت پسندوں نے بغداد میں جانورں کی ایک مارکیٹ میں بم حملہ کیا تھا جس سے تیرہ افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد