BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد: بمباری، 30 شدت پسند ہلاک
صدر سٹی میں اموات
صدر سٹی کے کئی رہائشیوں کا الزام ہے کہ امریکی بنباری میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں
امریکی فوج نے کہا ہے کہ عراقی فوج کے ہمراہ کارروائیوں میں دارالحکومت بغداد میں تیس شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے صدر سٹی میں ایک چھاپے کے بعد کی جانی والی فضائی بمباری میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کارروائی کے دوران بارہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ مارے جانے والے ایک گروہ کا حصہ تھے جو ایران سے اسلحہ سمگل کر رہا تھا لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے ایرانی حکام کے ساتھ سکیورٹی کے معاملات پر بات چیت کی ہے۔

ایران میں عراق کے سفیر محمد مجید الشیخ نے کہا ہے کہ عراق میں سکیورٹی کو بہتر بنانے میں ایران کو بہت اہم کردار ادا کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی بہتر بنانے کے علاوہ دونوں ملکوں کے دمیان طویل سرحد کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی عراق کو ایرانی مدد درکار ہے۔

حال ہی میں امریکہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ عراق میں مزاحمت کاروں کی مدد میں اضافہ کر رہا ہے۔ ایران ہمیشہ سے اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔

احتجاج

صدر سٹی کے علاقے کے پولیس حکام نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹروں اور بکتر بندگاڑیوں سے کی جانے والی بمباری میں دو عورتوں سمیت نو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بمباری کے بعد سینکڑوں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور اس حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

یہ لوگ بغداد میں شیعوں کے ایک بڑے اجتماع کے لیے جمع ہیں جس میں توقع ہے کہ ہزاروں زائرین شرکت کریں گے۔

اس دوران بغداد میں تین دن کا کرفیوں لگا دیا گیا ہے اور شہر میں کئی مقامات پر جانج پڑتال کے لیے نئی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔

سٹی صدر کے واقعے کے بارے میں امریکی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ :’ اس چھاپے کے دوران پکڑے جانے والے اور ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ایک ایسے خصوصی گروپ سے ہے جو ایران سے اسلحہ سمگل کرنے میں مدد کے علاوہ دہشتگردی کی تربیت کے لیے عراق سے لوگوں کو ایران بھیجنے میں مدد دیتا ہے۔

’عراق جنگ کا تناؤ‘
جب رابرٹ گیٹس کی آنکھیں نم ہوگئیں
عراقی پناہ گزینپناہ گزین بڑھ گئے
پانچ سال بعد پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ
خود کش حملے
افغانستان میں عراقی حربوں کا استعمال
عراقی بچے عراقی بچوں کا المیہ
عراق میں بقا کی جنگ لڑتے یتیم بچے
امریکی فوجی’تشدد کرنا جائز ہے‘
’امریکی فوجی عراقیوں پر تشدد کے حامی‘
’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
اسی بارے میں
عراق: خودکش حملہ، 27 ہلاک
06 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد