ایران جوہری پروگرام پر اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے نمائندے چین کے شہر شنگھائی میں اکھٹے ہو رہے ہیں جہاں وہ ایران کے جوہری عزائم کے خلاف کارروائی پر بات کرینگے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کو یقینی بنانے کے لیے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان چین، امریکہ، روس، فرانس اور برطانیہ نئے اقدامات پر غور کرینگے۔ اس اجلاس میں جرمنی کے مندوب بھی شریک ہونگے۔ ایران کے جوہری سفارتکار اور اقوام متحدہ کے سرکردہ نیوکلیئر مانیٹر کے درمیان اس ہفتے طے شدہ ملاقات نامعلوم وجوہات کی بناء پر ملتوی کر دی گئی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ایران سلامتی کونسل کے مطالبات کے برعکس اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دے رہا ہے۔ ایرانی جوہری سفارتکار غلام رضا آغازادہ اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے محمد البرادی کے درمیان پیر کو ملاقات ہونا تھی۔
گزشتہ ہفتے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا تھا کہ ایران نے نتانز میں واقع اپنے مرکزی جوہری پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی کے لیے چھ ہزار نئے سنٹریفیوج لگانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ سلامتی کونسل کو خدشہ ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو ہتھیار بنانے کی سطح تک لے جا سکتا ہے، اسی لیے ایران سے یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ شنگھائی میں ہونے والے مذاکرات میں ایران پر مزید پابندیاں لگانے کے ساتھ ساتھ سلامتی، سیاسی اور معاشی مراعات پر مبنی پیکج پر بھی غور کیا جائے گا۔ چین کی وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا صحیح حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ’بدھ کو ہونے والے ایک روزہ اجلاس کے ذریعے دنیا کو مثبت اشارے ملیں گے‘۔ ایرانی حکام تجارت اور دیگر مراعات کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں ماننے سے بارہا انکار کر چکا ہے۔ |
اسی بارے میں ایران:جوہری معاملے پر ملاقات ملتوی13 April, 2008 | آس پاس ’چھ ہزار سنٹری فیوج لگائیں گے‘08 April, 2008 | آس پاس ایران بم بنا رہا ہے: برطانوی پارلیمان02 March, 2008 | آس پاس جوہری معاملے پر ’عظیم فتح‘27 February, 2008 | آس پاس ’ایران کا جوہری پروگرام جاری ہے‘26 February, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||