پاک سرحد: سولہ ایرانی اہلکار اغواء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ مکران ڈویژن کے قریب ایران کے سرحدی علاقے ساکران سے نا معلوم افراد ایران کی سرحدوں کی حفاظت پر معمور سولہ اہلکاروں کو اغواء کر کے لے گئے ہیں اور شبہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اغواء کار پاکستان کے علاقے پنجگور اور تربت کے بعض علاقوں کی طرف فرار ہوئے ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق ایران کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایران میں حق آباد چوکی سے سولہ اہلکاروں کو اسلحہ سمیت اغواءء کر کے پاکستان کی جانب روپوش ہو گئے ہیں۔ اس بارے میں پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے مشتبہ علاقوں کی جانب ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں لیکن رات دیر تک مغویوں کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کیے جانے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایرانی حکام کے مطابق سولہ اہلکاروں میں ایک انسپکٹر، چار ہیڈ کانسٹیبل اور گیارہ سپاہی شامل ہیں اور اغواء کار تین گاڑیوں سمیت بھاری اسلحہ بھی ساتھ لے گئے ہیں۔ یہ اسلحہ ایرانی اہلکاروں کا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ ایرانی افسر نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اغواء کار بلوچستان کے علاقے بلیدہ کے قریب کہیں فرار ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آیا ہے اور ایرانی حکام کو قریب واقع دوسری چوکی پر رابطہ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ حق آباد چوکی خال پڑی ہے۔ یاد رہے گزشتہ سال اگست میں ایران کے سرحدی صوبہ سیستان بلوچستان میں نا معلوم مسلح افراد نے چاہ بہار کے قریب بڑی تعداد میں گاڑیوں کی تلاشی لی اور سترہ کے لگ بھگ ایران باشندوں کو اغواء کرکے پاک ایران سرحد کی جانب فرار ہو گئے تھے جنہیں پولیس اور فرنٹیئر کور کی ایک مشترکہ کارروائی کے بعد بازیاب کرا لیا گیا تھا اور اس سلسلے میں گرفتاریاں بھی کی گئی تھیں۔
اس کے علاوہ بلوچ نیشنل فرنٹ کے قائدین نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی حکام غلام حیدر رئیسانی نامی شخص کو ایران کے حوالے کر رہے ہیں۔ بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی کے مطابق غلام حیدر رئیسانی کو جمعہ کو کوئٹہ جیل سے کہیں اور منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر غلام حیدر رئیسانی کوایران کے حوالے کیا گیا تو وہ سخت احتجاج کریں گے۔ صادق رئیسانی ایڈووکیٹ کے مطابق حکومت ایران کو عبدالحمید ریگی شفاء نام کا ایک شخص کچھ ایرانیوں کو اغواء کرنے کے ایک مقدمے میں مطلوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان غلام حیدر رئیسانی کو ایرانی حکومت کے حوالے کر رہی ہے جبکہ گرفتار شخص غلام حیدر کے نام کا پاکستانی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، پیدائش کا سرٹیفیکٹ، نکاح نامہ اور فارم ب رکھتا ہے۔ | اسی بارے میں ایرانی مغویوں کی وطن واپسی22 August, 2007 | پاکستان ایرانیوں کا اغواء، تحقیقات جاری21 August, 2007 | پاکستان ’ایرانی سرکاری اہلکار بازیاب‘20 August, 2007 | پاکستان ’ایران کے سرکاری ملازمین کا اغوا‘19 August, 2007 | پاکستان کوئٹہ تفتان ریلوے پٹڑی پر دھماکے29 November, 2006 | پاکستان کوئٹہ: تفتان ریلوے لائن پر دو دھماکے01 July, 2006 | پاکستان ’راشد لو، بلوچ قوم پرست دو‘28 March, 2007 | پاکستان بلوچ قوم پرست تحریک کے نئے دور کا آغاز 28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||