BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 August, 2007, 09:24 GMT 14:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایرانیوں کا اغواء، تحقیقات جاری

ایرانی باشندے
ایرانی باشندوں کو اتوار کو چاہ بہار کے قریب سے اغواء کیا گیا تھا
انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل سلیم نواز نے کہا ہے کہ ایرانی باشندوں کو اغواء کر نے والے ملزمان میں سے ایک ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں جبکہ سولہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں خالد ائر بیس پر ایرانی باشندوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لایا گیا جہاں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور اور انسپکٹر جنرل پولیس طارق مسعود کھوسہ نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس اور ایف سی کی مشترکہ کارروائی سے ایرانی باشندوں کو بازیاب کرایا گیا ہے۔

میجر جنرل سلیم نواز نے بتایا کہ ایرانی باشندوں کو اتوار کی صبح چاہ بہار کے علاقے سے اغواء کیا گیا اور انہیں پاکستان کے علاقے بلیدہ لایا گیا جہاں سے مغویان کو پنجگور کی طرف لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں ایف سی سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی کو بھی ایران میں دہشت گردی کی کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا ملزمان کا تعلق جنداللہ نامی تنظیم سے ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اس بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں اور ان لوگوں کی شناخت معلوم کی جائے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کا سرغنہ کون ہے جو دو برادر ممالک کے مابین تعلقات خراب کر رہا ہے۔

فائل فوٹو
پیر کو فرنٹیئر کور اور مسلح افراد کے مابین فائرنگ کے بعد اکیس ایرانی اہلکاروں کو بازیاب کروا لیاگیا تھا

انسپکٹر جنرل پولیس طارق مسعود کھوسہ نے بتایا کہ وہ ایرانی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ دو ہفتے قبل خاران سے ایک پاکستانی ہندو ٹھیکیدار کو اغواء کر کے ملزمان ایران کی جانب لے گئے ہیں لہذا ایرانی حکام ہندو ٹھیکیدار کی بازیابی کے لیے بھی کوششیں کریں۔

مغویوں میں ایرانی فورسز کے اہلکار اور دیگر محکموں کے ملازم شامل ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح سویرے کوئی اپنے کام پر اور کوئی اپنی ڈیوٹی مکمل کرکے گھر جار رہا تھا کہ اچانک تیس سے پینتیس مسلح افراد جنہوں نے پہلے سے روڈ بلاک کر رکھی تھی۔ انہیں پکڑ کر زدو کوب کیا اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

ملزمان کے حوالے کہا جا رہا ہے کہ اس واردات کے پیچھے جنداللہ نامی تنظیم کا ہاتھ ہے لیکن تاحال اس کی کہیں سے نہ تو تصدیق ہوئی ہے اور ناں ہی اس تنظیم کے کسی رکن نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بلوچستان اور ایران کے ان سرحدی علاقوں میں جنداللہ نامی تنظیم کا نام مختلف کارروائیوں کے حوالے سے لیا جاتا رہا ہے اور اس تنظیم کے سربراہ کا نام عبدالمالک بتایا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سولہ گرفتار افراد میں عبدالمالک نامی شخص شامل ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ وہی عبدالمالک ہے جو جنداللہ کا سربراہ بتایا جاتا ہے اور یا یہ کوئی اور ملزم ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد