’ایرانی گارڈز پاکستان میں نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے کہا ہے کہ پاک ایران سرحد پر لاپتہ ہونے والے نو ایرانی بارڈر گارڈز پاکستان میں نہیں ہیں۔ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان رضا آصفی نے آج تہران میں کہا ہے کہ ایران کے جنوب مشرق میں لاپتہ ہوجانے والے بارڈر گارڈز پاکستان میں ہیں اور پاکستانی حکام سے ان کی رہائی کے لئے بات چیت جاری ہے۔ تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان نے ایران کے رابطہ کرنے پر اس معاملے کی تحقیقات کی ہیں مگر ابتدائی تحقیقات کے بعد اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ لاپتہ ہونے والے ایرانی گارڈز پاکستان لائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے نہایت قریبی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق پاکستان کی اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں اور ایرانی حکام سے ہر ممکن تعاون کیا جا رہا ہے۔ العربیہ ٹی وی چینل نے ایک پاکستانی شدت پسند گروپ جنداللہ کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ان ایرانی بارڈر گارڈز کو اس لئے اغوا کیا ہے تاکہ ایران کی جیلوں میں قید جنداللہ تنظیم کے سولہ ارکان کو رہا کروایا جائے۔ | اسی بارے میں ایران: فوجی اغوا ہونے کی تصدیق02 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||