ایران: فوجی اغوا ہونے کی تصدیق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے نو فوجی جنوب مشرقی علاقے میں ایک اسلامی تنظیم نے اغوا کر لیے ہیں۔ حکومت اب ان کی رہائی کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت داخلہ فوجیوں کی رہائی کے لیے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ حکومتی ترجمان غلام حسین نے کہا کہ حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ تاہم اس ضمن میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ العربیہ ٹیلیویژن نے اتوار کے روز خبر دی تھی کہ جنداللہ نامی ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پاکستان سرحد کے قریب پاکستانی صوبہ بلوچستان میں ایران کے نو فوجیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس تنظیم نے ان فوجیوں کی رہائی کے بدلے اپنے سولہ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان فوجیوں کو کب گرفتار کیا گیا۔ اس نام کی ایک تنظیم پر پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بم دھماکوں کا الزام ہے لیکن ایران میں اس کی کسی کارروائی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ایران کا مشرقی حصہ جہاں سنی آبادی زیادہ ہے یہاں کچھ عرصہ سے پولیس اور منشیات کے سمگلروں کے مابین تصادم کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ حکام نے ایک ڈاکو کو گرفتار کیا تھا جس پر صدر احمدی نژاد کے جنوب مشرقی علاقے کے دورہ کے دوران ان کے محافظ کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ صدر احمدی نژاد اس موقع پر حملہ کی جگہ پر موجود نہیں تھے۔ اس واقعہ میں ان کا ایک اور محافظ اور ڈرائیور زخمی بھی ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں ایران کو روس کی باقاعدہ پیشکش 25 December, 2005 | آس پاس ایران میں مغربی موسیقی پر پابندی20 December, 2005 | آس پاس ’ہولوکاسٹ ایک افسانہ ہے‘14 December, 2005 | آس پاس عراق میں ایرانی باشندوں کا اغواء 12 December, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||