حکومت پر پناہ گزین کا مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں پیر انتیس اگست کو ایک دس سالہ ایرانی لڑ کے کی آسٹریلیا کی حکومت کے خلاف مقدمے کی کاررووائی شروع ہو رہی ہے۔ اس کے وکلاء کا دعوی ہے کہ اس لڑکے کو حراستی کیمپوں کے رکھے جانے کے نتیجے میں اسے شدید ذہنی مشکلات کا سامنا ہے ۔ دس سالہ شایان بدرئی پہلے پناہ گزین ہیں جنہوں نے حکومت پر حراست میں رکھے جانے کے سلسلے میں مقدمہ کیا ہو۔ بدرئئ خاندان سنہ دو ہزار میں کئی اور غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ کشتی کے ذریعے آسٹریلیا پہنچا تھا۔ اس وقت شایان کی عمر صرف پانچ برس تھی۔ شایان کے وکلاء کا کہنا کہ حراست کے دوران شایان کو ایسے حلات سے گزرنا پڑا اور ایسے مناظر دیکھنے پڑے جو کہ کسی بھی انسان اور خاص کر کسی بچے کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ شایا کو اس حراستی مرکز میں بھوک ہڑتالیں، خود کشی کرنے کی کوششوں اور فسادات ختم کرنے کے لیے آنسو گیس کے استعمال جیسے مناظر دیکھنا پڑے۔ شایان کے والدین اپنے بیٹے کے لیے اب معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بچے کی کیفیت یہ ہے کہ وہ کئئ کئی روز خاموش رہتا ہے اور کھانے سے انکار کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کو اسی وجہ سے اسے ہر تھوڑے دن بعد ہسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے۔ تین سال پہلے آسٹریلیا کے انسانی حقوق کے کمیشن نے شایان کی نظر بندی کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا اور حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس کو معوضہ ادا کرے لیکن آسٹریلوی حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پچھلے پانچ برس میں تقریباً چار ہزار بچوں کو آسٹریلیا کے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایسے حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے اور شایان بدریئی کے وکلاء کہتے ہیں کہ اس کیس کے بعد بہت سے اور ایسے مقدمات کا امکان ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||