BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 July, 2008, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مستونگ سے چار لاشیں برآمد

کوئٹہ فائل فوٹو
ہلاک ہونے والوں کی آنکھوں پر پٹیاں اور ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے (فائل فوٹو)
بلوچستان کے شہر مستونگ سے چار نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ جعفرآباد سے چھ افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

مستونگ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عبدالحق نے بتایا ہے کہ شہر کے قریب پڑنگ آباد کے علاقے سے چار لاشیں ملی ہیں لیکن ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔ چاروں افراد کی عمریں بیس اور چالیس سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ ان افراد میں سے تین شلوار قمیض میں ملبوس جبکہ ایک نے شرٹ پتلون پہنی ہوئی تھی اور ڈاکٹروں کے مطابق یہ لاشیں دو روز پرانی ہیں۔

پولیس افسر عبدالحق نے بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک شخص کے بازو پر فارسی میں کچھ لکھا ہوا ہے لیکن ان کے پاس سے کوئی شناختی کارڈ یا کوئی اور چیز برآمد نہیں ہوئی ہے۔

مقامی صحافی عطاءاللہ نے بتایا ہے کہ چاروں افراد کی آنکھوں پر پٹیاں اور ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے جبکہ ان کے سر اور سینے پر گولیوں کے نشان ہیں۔

پولیس کے مطابق ان لاشوں کو شناخت کے لیے کوئٹہ روانہ کر دیا گیا ہے۔

ادھر آج جعفر آباد کی تحصیل اوستہ محمد سے چار اور ڈیرہ اللہ یار سے دو افراد کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

جعفر آباد کے پولیس افسر نذیر کرد کا کہنا ہے کہ دو افراد کو ذاتی رنجش کی بنیاد پر اغوا کیا گیا ہے جبکہ چار افراد کو سندھ سے فشریز کے محکمے کے اہلکار پوچھ گچھ کے لیے لےگئے ہیں۔

مقامی صحافی ہاشم بلوچ کے مطابق جعفرآباد اور قریبی علاقوں میں اغوا کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد