BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 July, 2008, 09:26 GMT 14:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: فائرنگ سے وکیل ہلاک

کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے
کوئٹہ کے جان محمد روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک وکیل کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ رات گئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو مستریوں پر حملے میں ایک ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

ان واقعات کے خلاف وکلاء نے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا ہے جبکہ ہزارہ قبیلے کے لوگوں نے جناح روڈ پر مظاہرے کیے ہیں۔

کوئٹہ کے پولیس افسر اکبر ارائیں نے بتایا ہے کہ غلام مصطفی قریشی ایڈووکیٹ کچہری جانے کے لیے اپنے گھر سے نکلے ہی تھے کہ نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کے مطابق غلام مصطفی ایڈووکیٹ آباد کار تھے اور ان کی پیدائش بھی کوئٹہ میں ہوئی تھی۔ ان کے تعلق اہل تشیع سے بتایا گیا ہے۔ ہزارہ قبیلے کے لوگوں نے اس واقعہ کے خلاف سول ہسپتال کے سامنے زبردست احتجاج کیا ہے اور ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگائی ہے ۔ہوائی فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

وکلاء برادری نےضلع کچہری سے احتجاجی ریلی نکالی اور گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا ہے۔ وکلاء نے اس دوران شدید نعرہ بازی کی۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر باز محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ پولیس عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ اس ریلی میں وکیل رہنماء علی احمد کرد بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل اور بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر امان اللہ موجود ہیں۔

اس کے علاوہ رات قریباً تین بجے کاسی روڈ پر نامعلوم افراد نے پنجاب کے شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے دو مستریوں پر فائرنگ کی ہے جس سے ایک مستری ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

سنیجر کے رات کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کو اور خضدار میں ایک پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ڈیرہ مراد جمالی کا رہائشی تھا۔

خضدار میں پولیس اہلکار احمد بلوچ کی ہلاکت کی ذمہ داری اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر قبول کی ہے اور کہا ہے کہ احمد سرکار کا مخبر تھا۔

کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے لیکن صوبائی حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں چالیس سے زیادہ افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے جن میں زیادہ تعداد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد