BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 May, 2008, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیر اعلیٰ، مظاہرین کی بات چیت

وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی
مظاہرین نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ نماز جنازہ میں شرکت کریں جس پر وزیر اعلی ان کے ساتھ روانہ ہوگئے
وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ اگر ان کے علاوہ کوئی صوبے میں امن بحال کر سکتا ہے تو وہ ان کے لے اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور وہ انھیں سلام کریں گے لیکن معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔

ریلوے ملازمین اور ریلوے کالونی کے مکینوں سے احتجاج کے دوران باتیں کرتے ہوئے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی نے جائینٹ روڈ پر قتل کی واردات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جنھوں نے یہ حرکت کی ہے ان پر وہ ہاتھ ضرور ڈالیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس کی اجازت کوئی معاشرہ مذہب یا اخلاق نہیں دیتا اور یہ کوئی بی ایل اے یا بی الف وغیرہ نہیں ہے بلکہ کوئی اور دھندے والے ہیں جو اس شہر کا امن تباہ، حکومت کو غیر مستحکم اور آباد کار بھایوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن وہ بچ کر نکل نہیں سکیں گے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ انھیں اگر سو فیصد نہیں تو پچاس فیصد ضرور یقین ہے کہ یہ کن لوگوں نے کیا ہے۔

اس دوران مظاہرین میں سے کسی نے کہا کہ جب سے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت قائم ہوئی ہے صوبے اور شہر کا امن تباہ ہو گیا ہے تو وزیر اعلی نے کہا کہ آپ لوگ چاہتے ہیں تو ہم استعفیٰ دے دیں گے ’ آپ آجائیں ہم حکومت چھوڑ دیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر اس اسمبلی میں کوئی ہے جو امن لا سکتا ہے تو وہ اس شخص کو سلام کریں گے لیکن معاملہ اتنا آسان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اس صوبے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہی ہے لیکن اس میں کچھ لوگ ہیں جو حالات بہتر نہیں ہو نے دیتے لیکن انھیں یقین ہے کہ صورتحال جلد بہتر ہو جائے گی۔

مظاہرین نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ نماز جنازہ میں شرکت کریں جس پر وزیر اعلی ان کے ساتھ روانہ ہوگئے۔

اس کے علاوہ آج گوادر میں گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی سے صحافیوں نے مصالحت کے عمل کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ اس کا جواب وزیر اعلی ہی دے سکتے ہیں۔

اختر مینگل جیسا تھا، ویسا ہے
بلوچستان کے حوالے سے تبدیلی نہیں ہوئی
بالاچ مریقوم پرستوں کا مطالبہ
آپریشن بند کریں اور لاپتہ افراد کو سامنے لائیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد