BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 April, 2008, 09:37 GMT 14:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مذاکرات سے پہلے آپریشن بند کریں‘

نواب اکبر بگٹی اور نواب بالاچ مری
نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری سکیورٹی آپریشنز میں ہلاک کر دیے گئے تھے

بلوچستان کی قومپرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد سے قبل اعتماد کی بحالی اور ماحول سازگار بنانے کے لیے فوجی کارروائی بند کی جائے اور لاپتہ افراد کو عدالتوں میں لایا جائے بصورت دیگر یہ اے پی سی بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکے گی۔

قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ کانفرنس کا ایجنڈہ سامنے آنے اور دعوت ملنے کے بعد اس میں شرکت کا فیصلہ کیا جائیگا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سردار عطا اللہ مینگل کا کہنا ہے کہ وہ کل جماعتی کانفرنس کے حتمی ایجنڈے کے بارے میں لاعلم ہیں، مگر اس کانفرنس سے قبل دو شرائط سامنے رکھی گئیں تھی۔ پہلی یہ کہ فوری طور آپریشن بند کیا جائے اور دوسرا یہ کہ جو ہزاروں کی تعداد میں لوگ قید یا لاپتہ ہیں انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان افراد پر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو ان کو شوق سے سزا دی جائے ورنہ انہیں جتنے روز قید رکھا گیا ہے حکومت کو اس کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق مذاکرات کے لیے دونوں شرائط پر عمل ضروری ہے اور جب تک یہ نہیں ہوتا تب تک بلوچستان کے عوام اچھی توقعات کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکیں گے۔

پیپلز پارٹی کی مرحوم چئرپرسن بینظیر بھٹو نے وطن واپسی کے بعد بی این پی مینگل کی طرف مثبت رویہ رکھا اور اس کے رہنماؤں کی رہائی کے مطالبات کرتی رہیں۔ مرکز اور بلوچستان میں حکومت کے قیام کے بعد سردار اختر مینگل پر قائم مقدمات واپس لیے گئے ہیں مگر سردار عطاء اللہ مینگل کہتے ہیں کہ یہ اقدام رائی برابر ہے۔ ’ایک اختر کی بات نہیں ہے سینکڑوں اختر قید میں پڑے ہوئے ہیں۔‘

بینظیر بھٹو اور خیر بخش مری
بینظیر بھٹو نے خیر بخش مری سے بالاچ مری کی ہلاکت کی تعزیت کی تھی

بلوچستان کے اس بزرگ قومپرست رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت کو دس نکات کی ایک فہرست فراہم کی گئی ہے جس کا مرکز صوبائی خود مختاری ہے۔

بلوچ قوم پرست جماعتوں نے حالیہ انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا بائیکاٹ کیا تھا۔اس بائیکاٹ میں شامل نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو نے وعدہ کیا تھا کہ آپریشن بند کیا جائیگا اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائیگا اور پہلے ان وعدوں کو وفا کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں، آیا وہ بلوچستان میں امن امان قائم رکھنا چاہتے ہیں یا وہ بلوچستان کا حقیقی مسئلہ جس میں قومی خودمختاری شامل ہے اس کو حل کرنا چاہتے ہیں ۔

حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ قومی خودمختاری ہے، اگر وہ اس کو حل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو بلائیں مگر اگر وہ یہ سمجھتے ہیں جو مزاحمت ہو رہی ہے اس کو روکوائیں اور امن امان قائم کریں گے تو پھر اس کل جماعتی کانفرنس کا کوئی کردار نہیں ہوسکے گا۔

نواب اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی مذاکرات کے بارے میں سخت گیر موقف رکھتی ہے۔ جماعت کے رہنما عبدالقادر قلندرانی کا کہنا ہے کہ بلوچوں کا مسئلہ اب مذاکرات سے آگے نکل چکا ہے۔ ’یہاں نواب اکبر بگٹی اور نواب بالاچ مری کو مارا گیا، ابھی تک ایک جنگ جاری ہے اور یہ آزادی کی جنگ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ مذاکرات پر یقین ہی نہیں رکھتے ہیں اب یہ معاملہ اس سے آگے ہے، لوگ مر رہے ہیں اپنا خون دے رہے ہیں یہ خون مذاکرات اور صوبائی خود مختاری کے لیے تو نہیں دے رہے ہیں۔

بلوچستان کےسینیئر تجزیہ نگار اور صحافی صدیق بلوچ کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت بلوچستان کے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے مگر کل جماعتی کانفرنس سے قبل یہ ضروری تھا کہ سیاسی ماحول میں تبدیلی لائے جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ایوب خان کے دور حکومت کے آخر میں آپریشن بند ہوگیا جو بھٹو کے دور میں دوبارہ شروع ہوا۔ جب جنرل ضیاالحق نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے بلوچوں سے مذاکرات کیے مگر اس سے پہلے غیر مشروط طور پر تمام لوگوں کو رہا کیا گیا اور ان پر دائر مقدمات واپس لے لیے گئے ۔

صدیق بلوچ کا کہنا تھا کہ اس وقت صرف بلوچستان حکومت نے مقدمات واپس لیے ہیں، وفاقی اور سندھ حکومت نے ابھی تک یہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ موجودہ حکومت کو بھی ماضی کی طرح لوگوں کو رہا کرکے مقدمات واپس لینے چاہئیں جس کے بعد بات چیت کی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ حکومت میں حکمران جماعت مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں انتیس رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے نواب اکبر بگٹی سمیت دیگر رہنماؤں سے مذاکرات کیے اور سفارشات بھی پیش کیں مگر ان تمام کوششوں کا کوئی مثبت نتینجہ سامنے نہیں آسکا تھا۔

رئیسانیمذاکرات کی اپیل
اسٹیبلشمنٹ روڑے اٹکا رہی ہے: نواب رئیسانی
بالاچحکومت کہتی ہے۔۔۔
’شخصی اختلافات ہلاکت کی ممکنہ وجہ‘
براہمداغ بگٹیبراہمداغ کی تردید
’اگرمیرا کوئی بھائی تھا توبالاچ تھا‘
پناہ گزینبلوچ سمینار
اقتدار عوام کو منتقل کریں: بلوچ رہنما
بے بس بلوچ بے بس و بے گھربلوچ
بلوچستان آپریشن نے بلوچوں کو کیا دیا؟
بلوچ اور’گریٹ گیم‘
بلوچستان: طاقت کی رسہ کشی میں پھنسایا گیا
بلوچستان کا مسئلہ
آئینی تبدیلی اور صوبائی خود مختاری کیوں؟
اسی بارے میں
بلوچ قوم پرستوں کا احتجاج
27 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد