BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 August, 2007, 05:29 GMT 10:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقتدار عوام کو منتقل کریں: بلوچ رہنما

بلوچ پناہ گزین
’جب تک عوام کو جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حوالے سے شعور اور آگاہی نہیں دی جاتی اس وقت تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے‘
بلوچستان کے مختلف دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش بحرانوں کا واحد حل عوامی رائے کا احترام اور فوج کو بیرکوں میں واپس بھیج کر صاف و شفاف انتخابات کے ذریعے اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی موجودگی میں یہ ملک مزید نہیں چل سکتا۔

جنگ گروپ آف نیوز پیپر کے زیر اہتمام پاکستان کے قیام کے ساٹھ سال مکمل ہونے کی مناسبت سے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ملک جس مقام پر کھڑا ہے اسکی ذمہ داری ملک کے سولہ کروڑ عوام، سیاسی جماعتوں اور بیوروکرسی پر ڈالی اور کہا کہ اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان پڑھے لکھے لوگو ں نے پہنچایا ہے کیونکہ ان پڑھ اور سیدھے سادے لوگ نہ تو ملکی پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں اور نہ ہی ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج لوگ ڈاکؤوں سے زیادہ سرکاری عہدوں پر بیٹھے ہوئے پڑھے لکھے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس ملک کے سیاستدانوں نے ہی مارشل لاء کے لیے راہ ہموار کی اور جمہوری حکومتوں کے خاتمے پر مٹھائیاں تقسیم کیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کو جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حوالے سے شعور اور آگاہی نہیں دی جاتی اس وقت تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی کچکول علی ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت اس ملک میں قومیں آزاد تھی اور بزور شمشیر ہماری آزادی چھین لی گئی۔

پاکستان ایک ریاست تو بنا مگرایک قوم نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کی عوام ہمیشہ مُلا، آرمی اور امریکہ کے ہاتھوں ذلیل ہوئے ہیں اور ہمارے جی ایچ کیو کی پالیسی امریکہ میں بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اقتدار اعلیٰ عوام کا ووٹ ہے مگر یہاں کبھی عوام کے ووٹ کا احترام نہیں کیا گیا اور حکمرانوں نے کبھی بھی اس ملک کے عوام پر بھروسہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے پاس کوئی آئینی، اخلاقی، انسانی اور جمہوری جواز نہیں ہے کہ وہ اقتدار میں رہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ ڈیل کرنے اور انہیں تحفظ دینے والے لوگ اگر ان کے پاس ووٹ لینے کے لیے آئیں تو وہ انہیں جوتے مار کر بھگائیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ اور سابق وفاقی وزیراطلاعات طاہر محمد خان ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائداعظم آئین، انسانی و بنیادی حقوق اور جمہوریت پر اعتقاد رکھتے تھے مگر آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہمارا ایک طبقہ تو اپنے کتوں کا علاج پیرس میں کرواتا ہے مگر ایک طبقے کے بچے ہسپتالوں میں سسکتے رہتے ہیں ۔

 آج لوگ ڈاکؤوں سے زیادہ سرکاری عہدوں پر بیٹھے ہوئے پڑھے لکھے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس ملک کے سیاستدانوں نے ہی مارشل لاء کے لیے راہ ہموار کی اور جمہوری حکومتوں کے خاتمے پر مٹھائیاں تقسیم کیں
جمال شاہ کاکڑ، اسپیکر بلوچستان اسمبلی

انہوں نے کہا کہ مارشل لاء کوئی قانون نہیں اس میں ساری قدریں ایک ایک کرکے دم توڑتی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ پاکستانی قوم صرف چاپلوسی جانتی ہے اور حکمرانوں نے اپنے پیچھے 16 کروڑ چاپلوسوں کو چھوڑا ہے جوچاپلوسی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم زندہ قوموں میں سے نہیں رہے اور ہم مردہ قوم ہیں، ہمارا احساس مرگیا ہے ہم صرف داد دینے کے لیے زندہ ہیں۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری اکرم شاہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی منزل ایک حقیقی، وفاقی، پارلیمانی و جمہوری نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے لیے اب اس کے سواء کچھ بھی باقی نہیں رہا کہ وہ اپنے لشکر کو لے کر بیرکوں میں واپس چلے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ عوام اور ملک کیلئے امید کی آخری کرن ہے اور آزادانہ و شفاف انتخابات اور غیر جانبدار الیکشن کے انعقاد سے ہی ملک بچایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب یہ بات کی جاتی ہے کہ فوج کو محفوظ راستہ دیا جائے تو یہ بات فوج کے جانے کےلیے نہیں بلکہ اس کے واپس آنے کےلیے کہا جاتا ہے۔ ہم جب تک فوج کو زبردستی بیرکوں میں نہیں بھیجیں گے وہ اقتدار سے الگ نہیں ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی، بلوچستان کے صدر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران یہ نہ سمجھیں کہ وہ لوگوں کو کرش اور ووٹ کی پرچی کے تقدس کو پامال کر کے عالمی سامراجی منصوبے کو نافذ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملک اس طرح نہیں چلے گا جس طرح چلایا جارہا ہے۔ ’یہاں حق کی بات کرنے ہوگی اور لوگوں کو حقوق دینے ہوں گے1973ء کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اپنے قیام سے لیکر آج تک جتنی تبدیلیاں آئی ہیں وہ سازشوں یا پھر ڈیل کی بنیاد پر آئی ہیں، مگر اب وقت آگیا ہے کہ ملک کو بچانے کے لیے ایک حقیقی و جمہوری نظام قائم کیا جائے اور آئین کی بالادستی قائم کر کے فوج اقتدار چھوڑ دیں۔

اس موقع پراپنے خطاب میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بریگیڈیئر(ر) عبدالرازق بلوچ نے کہا کہ موجودہ بحران کا واحد حل صرف یہ ہے کہ سب سے پہلے ایک غیر جانبدار الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں اور ووٹ کو اہمیت دی جائے۔ سیاست میں فوج کا عمل دخل بند ہونا چاہیے اور آرمی چیف و صدر کے عہدے الگ الگ کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو مکمل صوبائی خود مختاری دی جائے، عدلیہ اور پریس آزاد کیے جائیں۔ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم رقبے اور آبادی کی بنیاد پر کی جائے۔افغانستان میں طالبان کو ایک فورس تسلیم کر کے ان سے مذاکرات کئے جائیں اور کشمیر کا مسئلہ جلد سے جلد حل کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد