نیب بلوچستان: توہین عدالت کیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر جج جسٹس جاوید اقبال پر مشتمل سنگل بینچ نے ڈی جی نیب بلوچستان، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب بلوچستان اور دو تفتیشی افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ درخواست کی مزید سماعت اسلام آباد میں ہوگی۔ عدالت نے یہ حکم کوئٹہ میں ایک شہری ندیم مجید کے والد عبدالمجید کی درخواست پر دیا ہے جنہوں نے 25 جولائی2007ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا کی تھی کہ ان کے بیٹے ندیم مجید کو نیب نے غیر قانونی حراست میں رکھا ہے۔ انتیس جون کو سپریم کورٹ نے ندیم مجید کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے جبکہ نیب بلوچستان نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں تاحال رہا نہیں کیا تھا، جس پر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عبدالمجید کی درخواست کو انسانی حقوق کا کیس بنا کر اس کی سماعت کوئٹہ منتقل کر دی۔ عدالت نے ڈائریکٹر جنرل نیب بلوچستان اورنیب کے دو تفتیشی افسران کی جانب سے جمع کرائی گئی الگ الگ وضاحتوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی نیب بلوچستان، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب بلوچستان اور دونوں تفتیشی آفیسران کے خلاف توہین عدالت کے توہین کارروائی کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ڈی جی نیب نے جان بوجھ کر سپریم کورٹ کے احکامات کی بجا آوری نہیں کی۔
عدالت نے کہا کہ دونوں تفتیشی افسران نے درخواست دہندہ عبدالمجید کے گھر اور دفتر پر چھاپے کے دوران اختیارات اور حدود سے تجاوز کیا اور ضروری قانونی کارروائی مکمل کئے بغیر چھاپہ مارا۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں تاجر ندیم مجید کے والد عبدالمجید والد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نیب بلوچستان نے انہیں بہت تنگ گیا اور ان کے ساتھ جان بوجھ کر تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکالت نامے پر دستخط کے لئے وہ مسلسل ایک ہفتے تک نیب بلوچستان کے دفتر جاتے جہاں انہیں صبح سے لیکر شام تک بٹھا دیا جاتا جبکہ نیب کے دونوں تفتیشی افسران نور محمد اور عبدالسلام نے کراچی آکر ان کے گھر اور دفاتر پر غیر قانونی چھاپے مارے، توڑ پھوڑ بھی کی اور ان کے ملازمین سے کاروبار اور جائیداد کا تمام ریکارڈ طلب کیا اور انہیں دھمکیاں دیں کہ اگر ’انہوں نے میرا بزنس اور جائیداد کا ریکارڈ حوالے نہیں کیا تو منیجر سمیت ملازمین کو گرفتار کر کے کوئٹہ لے جایا جائیگا۔‘ انہوں نے کہا کہ دونوں تفتیشی افسران نے کراچی میں ان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا اور ان کی اہلیہ سمیت بچوں کو دھمکیاں دیں کہ وہ عبدالمجید کی جائیداد کا ریکارڈ ان کے حوالے کریں۔ عبدالمجید اور ندیم مجید کی جانب سے درخواست کی پیروی کرنے والے نذر اکبر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ نیب بلوچستان نے غیر قانونی طور پر ندیم مجید کو حراست میں رکھا اور انہیں طرح طرح سے تنگ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نیب کو لوگوں کے نجی بزنس میں مداخلت کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ندیم مجید کے خلاف کوئٹہ پولیس میں 408 کے تحت جو مقدمہ قائم کیا گیا تھا وہ صرف سرکاری ملازمین پر لاگو ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نیب کا کیس بنتا ہی نہیں کیونکہ ندیم مجید اور شکایت کنندگان کے درمیان بزنس تنازعہ چل رہا تھا اور کوئی فراڈ کیس نہیں تھا۔ | اسی بارے میں سپریم کورٹ: جاوید ہاشمی کی رہائی کا حکم03 August, 2007 | پاکستان دو افسران سمیت چھ کے وارنٹ14 July, 2007 | پاکستان صوبائی وزیر کے والد بری ہوگئے21 May, 2007 | پاکستان ’اگلا نشانہ جنگلات اورٹمبرمافیا‘11 December, 2006 | پاکستان سیاستدانوں سے مفاہمت کا پہلا قدم؟06 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||