BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 April, 2008, 10:32 GMT 15:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد
بلوچستان اسمبلی
نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتوں کی اقوام متحدہ کے تحت تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
بلوچستان اسمبلی کے نو منتخب ارکان اسمبلی نےسوموار کو حلف اٹھایا جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نامزد کیے بغیر منگل تک کے لیے ملتوی ہوگیا ہے۔

افتتاحی اجلاس میں سابق اسمبلی کے سپیکر جمال شاہ کاکڑ نے نو منتخب ارکان اسمبلی سےحلف لیا۔ آج حلف لینے والے ارکان کی تعداد باسٹھ تھی۔

حلف برداری کے بعد کئی قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ ان میں بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کرنے، نواب اکبر بگٹی، بالاچ مری اور دوسرے قوم پرست رہنماؤں کی ہلاکتوں کی اقوام متحدہ کے تحت تحقیقات کرانے، ان کا جسد خاکی ان کے ورثا کے حوالے کرنے اور نقصانات پر کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام سے متعلق قراردادیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسمبلی نے بینظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا۔

مادری زبان
 بلوچستان نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی مادری زبانوں یعنی بلوچی اور پشتو میں حلف لینے کا اصرار کیا۔ اس پر جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمٰن ) کے ارکان نے احتجاج کیا اور کہا کہ حلف اردو زبان میں ہی لینا چاہیے الگ الگ زبانوں میں حلف لینے سے قومیت کے جذبے پر اثر پڑتا ہے اور اس کے بعد احتجاجاً واک آوٹ کیا

بلوچستان نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی مادری زبانوں یعنی بلوچی اور پشتو میں حلف لینے کا اصرار کیا۔ اس پر جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمٰن ) کے ارکان نے احتجاج کیا اور کہا کہ حلف اردو زبان میں ہی لینا چاہیے الگ الگ زبانوں میں حلف لینے سے قومیت کے جذبے پر اثر پڑتا ہے اور اس کے بعد احتجاجاً واک آوٹ کیا۔

نیشنلسٹ جماعتوں کے اپنے زبان میں حلف لینے کے بعد ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی جان علی چنگیزی نے بھی اپنی مادری زبان میں حلف لینے کا اصرار کیا۔ تاہم سپیکر نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ایک دفعہ اردو میں حلف لینے کے بعد دوبارہ حلف نہیں لیا جا سکتا۔

جب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے ارکان نے ’جیے بھٹو‘ اور ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کے نعرے لگائے۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی رکن صادق عمرانی بینظیر بھٹو کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے نعرے اور تقاریر بھی ہاؤس کے اندر وقفے وقفے سے چلا رہے تھے۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس اور بلوچستان ریزرو پولیس کے دستے جگہ جگہ تعینات تھے۔

اسی بارے میں
مسلم لیگ (ق) کے اراکین میں کم
22 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد