بلوچستان: ’اجلاس جلد بلایا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وزارت اعلی کے نامزد امیدوار نواب اسلم رئیسانی کی قیادت میں اکتالیس اراکین نے گورنر بلوچستان سے ملاقات کی ہے اور بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کچھ روز پہلے نواب اسلم رئیسانی نے کہا تھا کہ اجلاس طلب کرنے میں تاخیر پر انہیں کوئی تشویش نہیں ہے۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سات اپریل کو طلب کیا گیا ہے لیکن اب نو منتخب اراکین اسمبلی کا مطالبہ ہے کہ اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے۔ اس حوالے سے آج پاکستان پیپلز پارٹی کے وزارت اعلی کے امیدوار نواب اسلم رئیسانی نے مخلوط حکومت میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد اراکین کے ہمراہ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی سے ملاقات کی اور کہا کہ اجلاس جلد بلایا جائے۔ نواب اسلم رئیسانی نے صحافیوں کو بتایا کہ اجلاس طلب کرنا اب گورنر کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ صدر پاکستان ہی اجلاس کی تاریخ کا تعین کرتے ہیں لیکن گورنر نے صدر سے اس بارے میں رابطے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس ملاقات میں شامل عوامی نیشل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر زمرک خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کوئی تشویش نہیں نواب اسلم رئیسانی کی سربراہی میں حکومت ضرور بنے گی، چاہے جب بھی اجلاس طلب بلایا جائے۔ بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اس وقت تریسٹھ اراکین کے ایوان میں قاف لیگ کے اراکین سمیت اکسٹھ اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ | اسی بارے میں بلوچ قوم پرستوں کا احتجاج27 March, 2008 | پاکستان بلوچستان اسمبلی اجلاس سات اپریل27 March, 2008 | پاکستان بلوچستان اسمبلی: دم توڑتی امیدیں25 March, 2008 | پاکستان سرحد اسمبلی اجلاس طلب26 March, 2008 | پاکستان بلوچستان میں ایک ممبر کی اپوزیشن 23 March, 2008 | پاکستان سرحد: سپیکر، ڈپٹی سپیکر کا انتخاب29 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||