BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 February, 2008, 15:19 GMT 20:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ (ق) کے اراکین میں کم

مسلم لیگ قاف
ایک رکن کی وفات اور خضدار میں دوبارہ گنتی سے آزاد امیدوار کی کامیابی سے ارکان کی تعداد سولہ رہ گئی ہے۔
بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی تعداد اٹھارہ سے کم ہو کر سولہ ہوگئی ہے جبکہ اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی اسلم بھوتانی کے مطابق مسلم لیگ (ق) کو قائم رکھنا بہت مشکل ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ایک رکن سرور کاکڑ کی وفات اور خضدار میں ایک حلقے میں دوبارہ گنتی سے آزاد امیدوار کی کامیابی کے بعد جماعت کے اراکین کی تعداد کم ہو کر سولہ رہ گئی ہے۔ کامیاب ہونے والے رکن آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں لیکن انہیں بلوچ قوم پرست جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد اور دیگر جماعتوں سے رابطے بڑھا دیے ہیں لیکن اب تک کچھ واضح صورتحال ابھر کر سامنے نہیں آرہی۔

مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت میں تمام کامیاب اراکین کا اپنا ووٹ بنک ہے اور یہ مسلم لیگ کا ووٹ نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جماعت متحد رہے لیکن انہیں ایسا نظر نہیں آتا اور اگر مرکزی قیادت نے ان پر کسی کو وزیر اعلٰی کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کی تو مسلم لیگ قائم نہیں رہے گی اور سب سے پہلے مسلم لیگ چھوڑنے والے وہ خود ہوں گے۔

بھوتانی خاندان کے افراد مسلسل آٹھویں مرتبہ اپنے حلقہ دریجی سے کامیاب ہو رہے ہیں۔

سابق وزیر اعلٰی نواب ذولفقار مگسی اگرچہ آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ انہوں نے بھی نومنتخب اراکین سے رابطے کیے ہیں۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی لشکری ریئسانی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے نواب اسلم رئیسانی کو پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیا ہے اور اس پر ان جماعتوں یا اراکین کو کوئی اعتراض نہیں ہے جن سے حکومت سازی کے لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ سابقہ دور میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ حکومت میں شامل تھی لیکن اس مرتبہ مبصرین کا کہنا ہے کہ جمعیت مسلم لیگ کے ساتھ حکومت سازی نہیں کرے گی کیونکہ ان انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ حکومت سازی کا خمیازہ جمعیت کو بھی بھگتنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں
سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ
21 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد