’میری رہائی بہتری کا معیار نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نشینل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ صرف ان کی رہائی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ بلوچستان کے حوالے سے حکومتی رویے میں تبدیلی آئی ہے کیونکہ ابھی تک بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری ہے اور فوجی پوسٹیں اپنی جگہ پر قائم اور دائم ہیں۔ بلوچستان کے سابق وزیراعلٰی سردار اختر مینگل نے بی بی سی اردو کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ملک میں آمرانہ تسلط میں تو کچھ قدر کمی آئی ہے مگر بلوچستان میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے مگر بلوچستان کے معاملے پر اسٹیبلشمنٹ کا تسلط آج بھی قائم ہے اور اسٹیبلشمنٹ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرانا نہیں چاہتی۔ سردار اختر مینگل نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بلوچستان پر مسئلے پر کل جماعتی کانفرنس میں مشروط شرکت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں شرکت کے لیے انہیں ابھی تک شرکت کی باقاعدہ دعوت تو نہیں دی گئی ہے مگر ان کا مؤقف ہے کہ بات چیت اس وقت ہوسکتی ہے جب فورسز کا انخلا ہو، فوجی آپریشن بند کیا جائے، لاپتہ افراد بازیاب ہوں اور گرفتار سیاسی کارکن رہا کیئے جائیں۔ ’اس طرح جو لوگ نقل مکانی کر کے دوسرے علاقوں میں آباد ہوئے ہیں ان کو واپس ان کے علاقوں میں آباد کیا جائے۔ جب یہ چیزیں مکمل ہوتی ہیں تو پھر وہ مذاکرات میں شامل ہوسکتے ہیں بندوقوں یا توپوں کے سائے میں کوئی بھی باشعور شخص یا سیاسی کارکن حصہ نہیں بنے گا۔‘ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ جب چودھری شجاعت حسین وزیر اعظم تھے تو بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیئے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی کو بعد میں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، ایک موجودہ مسائل کے لیے جس کی سربراہی مشاہد حسین کر رہے تھے اور دوسری آئینی معاملات کے لیے بنائی جس کی سربراہی وسیم سجاد کر رہے تھے جو اس وقت سینٹ میں قائد حزب اقتدار تھے۔ انہوں نے بتایا ’ان کمیٹیوں کو تیس کےقریب نکات دیئے گئے تھے جس کو انہوں نے ورکنگ پیپر کا نام دیکر کہا کہ یہ بالکل جائز مسئلے ہیں۔ ان نکات میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ فوج کا انخلا کیا جائے، تمام سیاسی کارکن رہا کیئے جائیں، چیک پوسٹیں ختم کی جائیں، فوجی چھاؤنیوں اور گوادر سمیت میگا پراجیکٹس پر کام روک دیا جائے۔‘ اختر مینگل نے کہا کہ آئینی اصلاحات کے لیے تجویز کیا گیا تھا کہ کرنسی، دفاع اور خارجہ پالیسی مرکز کے پاس ہوں باقی تمام محکمے صوبوں کو منتقل کیئے جائیں۔ ’مگر ان مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلا کہ نواب اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا۔ یہ ان کی بدنیتی تھی کیونکہ اگر وہ چاہتے تو مسئلہ حل کرسکتے تھے۔‘ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہر وہ شخص جو بلوچستان کے لیے جدوجہد کر رہا ہے چاہے وہ سیاسی طور پر یا ہتھیار اٹھا کر جدوجہد کرتا ہے وہ ان سب کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انہیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیوں کیا گیا ہے۔ ’غیر ملکی فوج نے نہیں بلکہ اپنی فوج نے آکر ان کے گھر جلا دیئے، ان کے بیٹوں کو اغوا کرلیا، ان کے سامنے ان کے بڑوں کی قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔ تو پھر وہ کیا کرتے۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ نواب خیر بخش مری اور براہمداغ بگٹی کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا رویہ شاید ان کو قائل کرسکے۔ ’مگر حکومت کا رویہ یہ ہی رہا جو انہوں نے نواب اکبر بگٹی کی لاش کے یا بالاچ مری سے اپنایا پھر شاید ان کو کوئی بھی اس راستے پر نہیں لاسکے۔ ممکن ہے کئی اور لوگ ان سے رجوع کریں۔‘ اختر مینگل کے مطابق وہ ان کی مِنتیں نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اپنی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ سردار اختر مینگل پاکستان میں محکوم قوموں کے اتحاد پونم کی کارکردگی سے مایوس نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد جو پونم سے توقعات تھیں وہ اس پر پوری نہیں اتری۔ ’شاید اسی کو چھپانے کے لیے پونم نے اے پی ڈی ایم کی چھتری کے نیچے جاکر تحفظ حاصل کیا۔ یہ چھوٹی قوموں کی بدقسمتی ہے۔‘ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئسیانی سے سیاسی اور قبائلی تعلقات رکھنے والے سردار اختر مینگل ان کی حمایت یا مدد کرنے کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کو پارلیمنٹ کے اندر مدد کی ضرورت ہے۔ ’بدقسمتی سے یا خوش قسمتی سے ہم پارلیمنٹ میں موجود نہیں۔ رئیسانی خود شریف انسان ہیں وہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل خوش اسلوبی سے حل ہوں مگر ان کی کابینہ میں جو لوگ شامل ہیں وہ بلوچستان میں آپریشن یا زیادتیوں میں شامل ہیں۔‘ جیل میں گذارے گئے پونے دو سالوں اور تفتیش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سوال ان سے کیئے جاتے ہیں جن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ مطلب کے جوابات ملیں گے۔ ’کہنے کو تو میں جیل میں تھا مگر تھا میں ملٹری انٹلی جینس کی تحویل میں۔‘ انہوں نے بتایا کہ جس کمرے میں رکھا گیا تھا ایک دن اس کی چھت گر گئی۔ ’میری قسمت اچھی تھی یا ان کی قسمت بری تھی پھر انہوں نے دوسری بیرک میں منتقل کیا تب جاکر کسی سے بات کرنے کا موقعہ ملا۔ پانچ ماہ تک تو جو رویہ کسی جنگی قیدی سے ہوتا ہے وہ رویہ اختیار کیا گیا۔‘ |
اسی بارے میں سردار اختر مینگل کو رہا کر دیا گیا09 May, 2008 | پاکستان ’بگٹی قتل تفتیش بھی یو این سے‘09 May, 2008 | پاکستان اختر مینگل کی رہائی کا حکم02 May, 2008 | پاکستان ’مذاکرات سے پہلے آپریشن بند کریں‘24 April, 2008 | پاکستان مینگل کی رہائی کے لیے پہیہ جام11 April, 2008 | پاکستان اختر مینگل ہسپتال میں داخل08 March, 2008 | پاکستان ’بلوچوں کو مسئلہ معافیوں سے آگے‘05 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||