بولان ایکسپریس پر راکٹوں سے حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ سے کراچی جانے والی ریل گاڑی بولان ایکسپریس پر نامعلوم افراد نے راکٹ لانچروں اور چھوٹے ہتھاروں سے حملہ کیا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ حملہ نصیر آباد کے علاقے ربیع کینال کے پاس ہوا۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ بولان ایکسپریس جب ربیع کینال کے علاقے میں پہنچی تو دو راکٹ داغے گئے لیکن وہ ریل گاڑی کے اوپر سے گزر گئے جبکہ فائرنگ کے نشان بوگی نمبر تین پر موجود تھے۔ ریلوے پولیس کے ایک اہلکار عبدالرزاق نے بتایا ہے کہ اس حملے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس حملے کے بعد ریل گاڑی کو ڈیرہ مرادجمالی میں روک دیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی لی اور کوئی تین گھنٹے کے بعد ریل گاڑی کو کراچی کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ دریں اثناء اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی اور کہا ہے کہ ریل گاڑی میں ان بوگیوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار موجود تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کی پچیس تاریخ کو نامعلوم افراد نے راولپنڈی سے کوئٹہ آنے والی کوئٹہ ایکسپریں پر سپیزنڈ کے مقام پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا لیکن پائلٹ انجن کی وجہ سے ریل گاڑی محفوظ رہی تھی۔ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے علاوہ قومی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ان میں زیادہ نقصان ریل کی پٹڑیوں اور بجلی کے کھمبوں کو پہنچا ہے۔ صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے کوئٹہ میں فرنٹئر کور یعنی نیم فوجی دستوں کو محدود پیمانے پر تعینات کیا ہے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ فائرنگ: ایک ہلاک تین زخمی01 July, 2008 | پاکستان بلوچستان کے بعض علاقوں میں ہڑتال03 July, 2008 | پاکستان کوئٹہ میں دھماکے سے بچی ہلاک04 July, 2008 | پاکستان کوئٹہ میں دوبارہ ایف سی تعینات08 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||