BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 September, 2008, 08:52 GMT 13:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عورتوں کا قتل، نصیر آباد میں خاموشی

نصیر آباد
نصیرآباد میں عورتیں یا تو گدھے گاڑی پر سوار ہوکر ہسپتال سے دوائی لیتے ہوئے نظر آئیں یا اسکول کی چھٹی کے وقت معصوم بچیاں نظر آتی ہیں

بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں عورتوں کے قتل پر وہاں کی مقامی سیاسی اور سماجی تنظیموں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور انہوں نے بارہا کوششوں کے باوجود بات کرنے سے گریز کیا۔

نصیرآباد سے واپسی پر صوبائی وزیر میر صادق عمرانی سے ان کےموبائل نمبر پر بات ہوئی تو انہوں نے عورتوں کےاس قتل کیس کو معمولی کیس قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض این جی اوز یعنی غیر سرکاری تنظیموں نے مغربی ممالک سے پیسے بٹورنے کی خاطر اس کیس کو حد سے زیادہ اچھالا ہے۔

کوئٹہ سے بات کرتے ہوئے صادق عمرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے عورتوں کے قتل کیس میں جن چار افراد کو گرفتار کیا تھا انہوں نے کرائم برانچ کوئٹہ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور انہیں جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائیگا۔

صوبائی وزیر صادق عمرانی کا نصیرآباد کےعلاقے میں سیاسی اور قبائلی اثر زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں اپنی رسومات اور روایات ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ’سیاہ کاری کے واقعات تو سندھ میں بھی ہو رہے ہیں۔ یہ روایات برسوں سے چلی آ رہی ہیں ان کو بعض این جی اوز غلط رنگ دے رہی ہیں۔‘

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ سیاہ کاری کی قبائلی رسم کے تحت عورت کے ساتھ کسی مرد کا نام ضرور جوڑا جاتا ہے اور اسی وجہ سے عورت کا مرد رشتہ دار اس عورت اور اُس مرد کو قتل کر دیتا ہے۔ لیکن نصیرآباد کے واقعہ میں عورتوں کا تو ذکر بارہا آ رہا ہے لیکن مردوں کا نام نہیں۔

ہم ضلعی ناظم نصیرآباد سردار فتح علی عمرانی کے دفتر ان سیاہ کار مردوں کے نام جاننے کے لیے پہنچے تھے کیونکہ وہ مقتول عورتوں کے قبیلے کے سردار ہیں مگر ان کا دفتر بند ملا۔ ان کے موبائل نمبروں پر رابطہ کیا گیا مگر ان سے بات نہ ہوسکی۔

غلط رنگ دیا جا رہا ہے
 ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں اپنی رسومات اور روایات ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ سیاہ کاری کے واقعات تو سندہ میں بھی ہورہے ہیں۔ یہ روایات برسوں سے چلی آرہی ہیں ان کو بعض این جی اوز غلط رنگ دے رہی ہیں۔
صوبائی وزیر صادق عمرانی

ان کے دفتر کے باہر ایک گاڑی میں سوار چار مشکوک افراد نے ہمیں روک کر شناخت دریافت کی اور تصویریں بنانے کا سبب معلوم کیا۔

نصیرآباد میں ہسپتال ہو یا عدالت، ضلعی ناظم کا دفتر ہو یا پولیس کا تھانہ ہر طرف ایک خوف کا ماحول موجود ضرور تھا۔

ضلعی پولیس سربراہ کے دفتر کے باہر کھڑے پولیس اہلکار ان عورتوں کو غلیظ لفظوں سے یاد کر رہے تھے جنہوں نے بقول ان کے انہیں بدبودار قبریں کھدوانے پر مجبور کیا۔ وہ سپاہی ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے سرکار بھی نہ جانے کیسے کیسے بےغرتی کے کام ان سے کروا رہی ہے۔

ضلعی پولیس سربراہ کے دفتر میں شاید بلوچ عسکریت پسندوں کی وجہ سے خوف کا ماحول اس قدر شدید تھا کہ موبائل فون کی بیٹری بند کرنے کے بعد اندر جانے کی اجازت کا انتباہ مین گیٹ پر لکھا ہوا تھا ۔

ضلعی پولیس سربراہ جو کہ سینیٹر اسرار زہری کی طرح بلوچ روایات کے پاسدار تھے انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا ایک جملہ علاقے کے صحافیوں میں مشہور تھا جو انہوں نے ایک بلوچ صحافی کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ تم کیسے بلوچ ہو جو اپنی غیرت کے بارے میں مجھ سے سوال پوچھ رہے ہو۔

 سیاہ کاری کی قبائلی رسم کے تحت عورت کے ساتھ کسی مرد کا نام ضرور جوڑا جاتا ہے اور اسی وجہ سے عورت کا مرد رشتہ دار اس عورت اور اُس مرد کو قتل کردیتا ہے۔ لیکن نصیرآباد کے واقعہ میں عورتوں کا تو ذکر بارہا آ رہا ہے لیکن مردوں کا نام نہیں۔

نصیرآباد میں عورتیں یا تو گدھے گاڑی پر سوار ہوکر ہسپتال سے دوائی لیتے ہوئے نظر آئیں یا اسکول کی چھٹی کے وقت معصوم بچیاں نظر آئیں جو کم تعداد میں کتابیں ہاتھ میں پکڑتے ہوئے جلدی جلدی گھروں کی طرف جا رہی تھیں۔

نصیرآباد میں عورتوں کی شناخت ہے نہ حیثیت۔ وہ صرف مرد کی ایسی غیرت ہیں جو بوقت ضرورت قتل کردی جاتیں ہیں اور باباکوٹ جیسے علاقوں میں بغیر کفن رات کےاندھیرے میں دفنا دی جاتی ہیں۔ عورتوں کی کہانی نصیرآباد میں بہت مختصر نثری نظم جیسی ہوکر رہ جاتی ہے۔ ان کی قبروں کے نشان تک جلد مٹ جاتے ہیں۔

نصیرآباد میں سیاست ہو یا صحت ہر طرف مرد ہی مرد نظرآئیں گے۔ نصیرآباد آنے اور جانے والے مسافروں کو سینیٹ میں عورتوں کو زندہ دفن کرنے کو بلوچ روایات کی پاسداری قرار دینے والے سینیٹر اسرار زہری کے بھائی ثناء اللہ زہری کی بڑی بڑی تصاویر لگی ہوئی نظر آئیں۔

جبکہ عورتوں کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث قرار دیئےگئے ایک با اثر شخص کے بھائی صوبائی وزیر صادق عمرانی کے انتخابی نشان تیر کے ساتھ تصاویر تاحال ان سڑکوں پر لگی ہوئی ہیں جہاں سے بلوچ سماج کی سہمی ہوئی عورتیں خاموشی سے گزر جاتی ہیں۔

نصیر آباد کے سفر سے واپسی پر تلخی ایسے چپک گئی کہ سفر کے خاتمے تک ہم لوگ ہنس نہ سکے۔ ایک ہمسفر دوست کے مطابق یہ ان مقتول عورتوں کا سوگ تھا جو علاقے میں موجود تو ہے مگر اسے کوئی منانے والا موجود نہیں ہے۔

خاتون کا خاکہ(فائل فوٹو)’غیرت کے نام پر قتل‘
’جعفر آباد میں 3 لڑکیاں ہلاک کردی گئیں‘
’غیرت نہیں تو ۔ ۔‘
بڑی بہن کے قتل کا ملزم کیا جواز پیش کرتا ہے
 پاکستانی اخباراتآج کی بڑی خبر
حقوق نسواں بل کی نمایاں کوریج
پولیس اور حدود
حدود قوانین ، پولیس کی رائے منقسم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد