’غیرت کے نام پر تین لڑکیاں قتل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں غیرت کے نام پر تین لڑکیوں کے قتل کی تفتیش نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق قتل کا یہ واقعہ گزشتہ ماہ بلوچستان کے شہر اوستہ محمد کے نواحی گاؤں بابا کوٹ میں پیش آیا جہاں عمرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والی تین لڑکیوں کو ان کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر گھر سے فرار ہونے پر گولیاں مار دیں۔ جعفرآباد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چودہ جولائی کو عمرانی قبیلے کی اٹھارہ سے بیس سال عمر کی تین بچیاں تمبو باباکوٹ سے بھاگ کر اوستہ محمد آئیں اور وہاں انہوں نے ایک مقامی ہوٹل میں کمرہ لیا۔ تاہم اس دوران عمرانی قبیلے کے مسلح افراد ان کا پیچھا کرتے ہوئے اوستہ محمد پہنچ گئے اور ان بچیوں کو پکڑ کر واپس لے گئے جہاں انہیں قتل کرنے کے بعد باباکوٹ کے کمبولہ قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ جعفر آباد کے ضلعی پولیس افسر نذیر احمد کرد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے علاقے سے تین خواتین کے اغواء اور ملحقہ ضلع نصیر آباد میں ان کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’ان خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا‘۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی ہائیکورٹ نے ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد اس واقعہ پر ازخود کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کو گولیاں مارنے کے بعد زندہ دفن کیا گیا ہے۔ تاہم پولیس حکام کے مطابق ان خواتین کو زندہ دفن نہیں کیا گیا۔ حقوقِ انسانی کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کا تعلق عمرانی قبیلے کی ایک بااثر شخصیت سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکی ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کابینہ کے رکن صادق عمرانی نے کہا کہ ان کے قبیلے کے بعض افراد سیاسی مخالفت کی بنیاد پر اس قتل میں ان کے خاندان کو ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ خواتین دراصل انہی لوگوں نے خود قتل کی ہیں۔ صادق عمرانی نے اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’ان کے قبیلے کی تین خواتین کو سیاہ کاری کی روایت کے تحت انہی کے قبیلے کے بعض افراد نے قتل کیا اور انہیں وہیں ایک قبرستان میں دفن کیا گیا ہے‘۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے اپیل کی ہے کہ ناانصافی پر مبنی اس اندوہناک واقعے پر ملک کے صدر، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے احتجاج کیا جائے اور اس میں ملوث بااثر شخصیات کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے صوبائی اور مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔ |
اسی بارے میں سرحد: چار سال میں ساٹھ ’ونی‘02 July, 2006 | پاکستان دیر: ’ونی‘ کی شادی، پانچ گرفتار29 August, 2007 | پاکستان سُسر نے زنجیروں میں باندھا 30 September, 2003 | پاکستان ’خواتین آج بھی انصاف کی متلاشی‘08 March, 2008 | پاکستان ایک شادی پر قبیلے لڑنے کو تیار ہو گئے15 June, 2008 | پاکستان نابالغ بچی کا جبری نکاح19 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||