ایک شادی پر قبیلے لڑنے کو تیار ہو گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےصوبۂ سندھ میں ایک جوڑے سائرہ جتوئی اور اسماعیل سومرو کی شادی دو قبیلوں کےدرمیان تنازعےکا سبب بن گئی ہے۔ سکھر پولیس کےڈی آئی جی بشیر میمن کےمطابق سائرہ اور اسماعیل کو کارو کاری قرار دے کر جتوئی اور سومرو سرداروں نے انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا مگر پولیس نے اسےناکام بنادیا اور انہیں بازیاب کرا لیا ہے۔ سکھر کی بیس سالہ سائرہ نے تقریباً ایک برس قبل جتوئی قبیلے اور والدین کی رضامندی کے بغیر اپنی پسند کے نوجوان اسماعیل سومرو سے شادی کرلی تھی۔
سکھر پولیس کےمطابق سائرہ کی قبیلے سے باہر شادی کا بدلہ لینےکےلیے مبینہ طور پر ان کے قبیلے والوں نے اسماعیل سومرو کےماموں ڈاکٹر جاوید سومرو کو ان کی اہلیہ سمیعہ سمیت سکھر شہر سے اغوا کرلیا تھا۔ دونوں مغوی میاں بیوی کو پندرہ دنوں کے بعد اس یقین دہانی پر رہا کیا گیا کہ سومرو قبیلے کے سردار سائرہ کو جتوئی قبیلے کے سردار عابد جتوئی کےحوالے کر دیں گے۔ سکھر پولیس کےمطابق شکارپور سے رکن صوبائی اسمبلی عابد جتوئی نے ایک اور سردار اور سابق رکن اسملبی جنید سومرو کے ساتھ مل کر دونوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ان کےخلاف مقامی تھانے میں پولیس نے اپنی طرف سے مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ سکھر پولیس نے سائرہ اور اسماعیل کےابتدائی بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ منتقلی سےقبل ڈی آئی جی آفس سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سائرہ نےکہا تھا کہ اسماعیل نے ان کےوالدین سے باضابطہ رشتہ مانگا تھا مگر انہوں نے جتوئی نہ ہونے کی وجہ سے انکار کردیا تھا۔
سائرہ کےمطابق جنید کے بنگلے سے جب انہیں ایک رات الگ الگ کیا گیا توانہیں قتل کا خدشہ محسوس ہوا اور انہوں نے پولیس سے مدد مانگی ۔ سائرہ کےمطابق شادی کے بعد انہوں نے سکھ کا ایک لمحہ نہیں گزارا اور انہیں ہر وقت خدشہ رہتا ہے کہ کہیں وہ قتل نہ کیے جائیں۔ مگر انہوں نے کہا کہ وہ ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ سکھر پولیس کےمطابق سائرہ اسماعیل مقدمے کی مکمل تفتیش کے بعد اس میں ملوث سرداروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائیگا۔ سندہ میں پیار کی شادی کے بعد دو قبیلوں کے درمیاں تصادم کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ چند سال قبل پنوعاقل کی شائستہ عالمانی اور بلخ شیر مہر کی شادی کے بعد مہر عالمانی قبیلوں کےدرمیان تنازعہ بڑہ گیا تھا۔ کئی مہینوں کے تنازعے کےبعد غیر سرکاری تنظیموں نے شائستہ اور بلخ شیر کی مدد کی اور انہیں ناروے بھیج دیا، جس کے بعد عالمانی اور مہر قبیلوں کی بندوقیں ایک دوسرے کے سروں سے نیچے ہوسکی تھیں۔ | اسی بارے میں شائستہ کیس، الطاف حسین کی دھمکی15 January, 2004 | پاکستان ولی کے بغیر شادی جائز ہے: سپریم کورٹ19 December, 2003 | پاکستان ’شائستہ کو طلاق دے دی‘03 December, 2003 | پاکستان پیار کیا کوئی چوری نہیں کی02 December, 2003 | پاکستان ٹھٹہ:تشدد کا نیا واقعہ30 September, 2003 | پاکستان سُسر نے زنجیروں میں باندھا 30 September, 2003 | پاکستان والدین بچوں کے گھر نہ اجاڑیں، عدالت عالیہ11 November, 2003 | پاکستان سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم کیوں ہے؟21 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||