BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2003, 00:25 GMT 04:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹھٹہ:تشدد کا نیا واقعہ

گلشن کھٹری
سر مونڈھ کر زنجیروں میں باندھ دیا گیا

ستمبر کے آخری ہفتہ میں پولیس نے ٹھٹہ شہر کے ایک گھر سے ایک خاتون کو برآمد کیا ہے جس کے سسر نے اس کا سر مونڈھ کر اس کو زنجیروں سے باندھ کر رکھا ہوا تھا۔

گلشن کھٹی نامی اس تیئس سالہ عورت کو کئی ماہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ ٹھٹہ میں رونما ہونے والا اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔

سندھ کے بالائی علاقے میں خواتین کو کاروکاری کے الزام کے تحت کاری قرار دے کر قتل کر دیا جاتا ہے لیکن اس واقعے سے لگتا ہے کہ سندھ کے ساحلی علاقے میں خواتین پر تشدد نے بے عزتی کی شکل اختیار کر لی ہے۔

حالیہ واقع کسی گاؤں گوٹھ کا نہیں ہے بلکہ ضلعی ہیڈ کوراٹر یعنی ٹھٹہ شہر کے علاقے کا ہے-

پولیس نے خاتون کے دیور کی فریاد پر چھاپہ مار کر زنجیروں میں بندھی ہوئی گلشن کھٹی کو برآمد کر کے زنجیروں سے آزاد کرایا ہے- موقع پر سے اس عورت کے کٹے ہوئے بال اور تشدد کے آلات بھی برآمد ہوئے ہیں- خاتون کے سسر اور ایک (بڑے) دیور کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

گلشن کھٹی کا باپ ضلع ٹھٹہ کے شہر بہارا کا رہنے والا ہے اور اس نے اپنی دوسری شادی کرنے کے غرض سے اپنی بیٹی گلشن کی شادی چھ ماہ قبل ٹھٹہ میں غلام محمد خاصخیلی نامی ایک شخص سے کروائی تھی-

بیٹی کے رشتے کے بدلے میں غلام محمد کی بہن نور خاتون سے گلشن کے باپ نے خود شادی کرلی تھی۔

گلشن کے مطابق اس کی شادی کو بمشکل دو ماہ ہی گزرے ہوں گے کہ اس پر مظالم کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔

سسر کی قید سے رہائی پانے کے بعد ٹھٹہ پولیس اسٹیشن میں صحافیوں کو اپنی داستان سناتے ہوئے گلشن نے بتایا کہ چار ماہ قبل اس کے سسر شیر محمد عرف کانگل خاصخیلی نے اس کو ناجائز تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنے کوشش کی-

گلشن کے انکار پر اسے بری طرح سے مارا پیٹا گیا - بعد اس پر روزانہ دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ سسر کا مطالبہ مانتے ہوئے اس کی ہوس پوری کرے-

اس صورتحال سے جب گلشن نے اپنے شوہر غلام محمد آگاہ کیا جو کراچی میں ایک پیٹرول پمپ پر کام کرتا ہے تو اس کے شوہر نے ہدایت کی والد کا کہنا نہ ٹالے-

گلشن نے بتایا کہ ’شوہر کے پاس کوئی شنوائی نہ ہونے کے بعد کانگل نے حد کردی اور مجھے بڑے دیور کی مدد سے مار پیٹ کر زنجیروں میں باندھ دیا گیا۔‘

گلشن نے مزید بتایا کہ اسے روزآنہ مارا پیٹا جاتا تھا اور صرف ایک وقت کھانا دیا جاتا تھا- جب وہ چیختی چلاتی تھی تو دھمکی دی جاتی تھی کہ اسے کاری قرار دے کر قتل کردیا جائےگا یا پھر زندہ جلا کر خود کشی کا ڈرامہ رچایا جائےگا- گلشن کے مطابق شادی کے بعد چھ ماہ کے دوران اسے صرف تین مرتبہ نہانا نصیب ہو سکا-


بہو کو سزا دینا ہر سسر کا حق ہے‘سر مونڈھنا اور زنجیروں میں باندھنا تو بہت ہی چھوٹی سزا ہے۔

کانگل

ملزم کانگل کا کہنا ہے ’گلشن کا چال چلن ٹھیک نہیں تھا اس لئے میں نے سزا کے طور پر اسے زنجیروں میں جکڑ دیا تھا- سر مونڈھنا اور زنجیروں میں باندھنا تو بہت چھوٹی سزا ہے- اس کے لئے اس سے بھی بڑی سزا ہونی چاہئے-‘

کانگل کے پڑوسی غلام رسول خاصخیلی اور شفیع منگنھار کا کہنا ہے کہ کانگل کسی پڑوسی کو گھر میں نہیں آنے دیتا تھا-

اس نے کہا ’ کئی ماہ سے اس کے گھر سے شور سننے میں آتا تھا لیکن جب ہم لوگ اس سے پوچھتے تھے تو وہ ہمیں کہتا تھا کہ یہ میرے گھر کا معاملہ ہے-‘

انہوں نے کہا کہ کانگل ایک ظالم آدمی ہے اور اس نے چند ماہ قبل اپنی بیوی کو بھی نکال دیا تھا-

گلشن کے والد یا دیگر ورثا کے نہ پہنچنے پر پولیس نےگلشن کو صحافیوں اور معززین کی موجودگی میں’سام‘ یعنی امانت کے طور پر علاقہ کے ایک معزز شخص عبدالکریم کاشخیلی کے حوالے کیا-

پیر کے روز تین دن گزرنے کے بعد گلشن کا باپ قادر ٹھٹہ پہنچا لیکن گلشن نے والد کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ گلشن کا کہنا ہے کہ اس کا والد اور سسر ملے ہوئے ہیں اور وہ لوگ مل کر اسے مار ڈالیں گے۔

عبدالکریم نے گلشن کو اس کے والد اور چچا کے حوالے کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’اگر گلشن اپنی مرضی سے نہیں جانا چاہتی تو میں اسے ان لوگوں کے حوالے نہیں کروں گا-‘

بعد میں حقوق نسواں کی سر گرم کارکن اور معروف شاعرہ عطیہ داؤد گلشن کھٹی کو اپنے ساتھ کراچی لے گئیں۔

پیر کے روز ٹھٹہ شہر میں بعض سماجی کارکنوں اور شہریوں نے گلشن کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کے خلاف ایک مظاہرہ کیا۔

دریں اثنا ٹھٹہ کی رکن سندھ اسمبلی حمیرا علوانی نے گلشن سے ملاقات کی اور اس پر ہونے والے مظالم کی تفصیلات حاصل کیں۔

اس موقع پرگلشن رکن اسمبلی سے چمٹ گئی اور روتے ہوئے کہا کہ اس کا سسر اس کو قتل کردے گا۔

تاہم حمیرا علوانی نے اسے یقین دلایا کہ وہ اسے انصاف دلانے کی پوری کوشش کریں گی اور اس معاملے کو اسمبلی میں اٹھائیں گی۔

ادھر پولیس نے گلشن کے سسر کانگل، بڑے دیور رازو اور شوہر غلام محمد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ سسر اور دیور کو تو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ شوہر غلام محمد ابھی مفرور ہے۔

رہائی کے بعد جب گلشن کو تھانے پر لایا گیا تو اس کے پیر سوجھے ہوئے تھے اور جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے گہرے نشانات موجود تھے۔ وہ بہت کمزور بھی تھی اور اس پر بے ہوشی کے دورے پڑ رہے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد