| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سُسر نے زنجیروں میں باندھا
ستمبر کے آخری ہفتہ میں پولیس نے ٹھٹہ شہر کے ایک گھر سے ایک خاتون کو برامد کیا جس کے سسر نے اس کا سر مونڈھ کر اس کو زنجیروں سے باندھ رکھا تھا۔ گلشن کھٹی نامی اس تئیس سالہ عورت کو مہینوں تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ٹھٹہ میں رونما ہونے والا اس نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔ سندھ کے بالائی علاقے میں خواتین کو کاری قرار دے کر قتل کر دیا جاتا ہے لیکن لگتا ہے کہ سندھ کی ساحلی علاقے میں خواتین پر تشدد نے تشدد اور بعزتی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ حالیہ واقع کسی گاؤں گوٹھ کا نہیں ہے بلکہ ٹھٹہ شہر کے علاقے ضلع ہیڈ کوراٹر کا ہے- پولیس نے خاتون کے دیور کی فریاد پر چھاپہ مار کر زنجیروں میں بندھی ہوئی گلشن کھٹی کو برآمد کر کے زنجیروں سے آزاد کرایا- موقع پر سے عورت کے مونڈھے ہوئے بال اور تشدد کے آلات بھی برآمد ہوئے ہیں- خاتون کے سسر اور بڑے دیور کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پھر گلشن کھٹی کی کہانی معلوم ہوئی۔ اس کا باپ ٹھٹہ ضلع کے شہر بہارا کا رہنے والا ہے اور اس نے خود دوسری شادی کرنے کے غرض سے اپنی بیٹی گلشن کی شادی چھ ماہ قبل ٹھٹہ میں غلام محمد خاصخیلی نامی ایک شخص سے کرادی تھی- بیٹی کے رشتے کے بدلے میں غلام محمد کی بہن نور خاتون سے اس نے خود شادی کرلی- گلشن کے مطابق اس کی شادی کو بمشکل دو ماہ ہی گزرے ہونگے کہ اس پر مظالم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سسر کی قید سے رہائی پانے کے بعد پولیس اسٹیشن ٹھٹہ پر صحافیوں کو بتایا کہ چار ماہ قبل اس کے سسر شیر محمد عرف کانگل خاصخیلی نے کہا کہ وہ اس سے ناجائز تعلقات قائم کرے- انکار کرنے پر اسے بری طرح سے مارا پیٹا گیا - بعد اس پر روزانہ دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ سسر کی ہوس کو پورا کرے- جب اس نے صورتحال سے اپنے شوہر غلام محمد کوجو کراچی میں ایک پیٹرول پمپ پر کام کرتے ہیں آگاہ کیا تو انہوں نے ہدایت کی والد کا کہنا نہ ٹالے- گلشن نے بتایا کہ ’شوہر کے پاس کوئی شنوائی نہ ہونے کے بعد کانگل نے حد کردی اور مجھے بڑے دیور کی مدد سے مار پیٹ کر زنجیروں میں باندھ دیا گیا۔‘ اسے روزنہ مارا پیٹا جاتا تھا اور صرف ایک وقت کھانا دیا جاتا تھا- جب وہ چیختی چلاتی تھی تو دھمکی دی جاتی تھی کہ اسے کاری قرار دے کر قتل کردیا جائےگا یا زندہ جلا کر خود کشی کا ڈرامہ رچایا جائےگا- گلشن کے مطابق شادی کے بعد چھ ماہ کے دوران اسے صرف تین مرتبہ نہانا نصیب ہو سکا-
کانگل کے پڑوسی غلام رسول خاصخیلی اور شفیع منگنہار کا کہنا ہے کہ کانگل پڑوس کی کسی عورت یا مرد کو گھر میں آنے نہیں دیتا تھا-’ کئی ماہ سے اس کے گھر سے شور سننے میں آتا تھا لیکن جب ہم لوگ اس سے پوچھتے تھے تو وہ ہمیں کہتا تھا کہ یہ میرے گھر کا معاملہ ہے- ‘ انہوں نے کہا کہ کانگل ایک ظالم آدمی ہے اور اس نے چند ماہ قبل اپنی بیوی کو بھی نکال دیا تھا- گلشن کے والد یا دیگر ورثا کے نہ پہنچنے پر پولیس نےگلشن کو صحافیوں اور معززین کی موجودگی میں’سام‘ یعنی امانت کے طور پر علاقہ کے ایک معزز شخص عبدالکریم کاشخیلی کے حوالے کیا - تین دن کے بعد گلشن کے والد قادر پیر کے روز ٹھٹہ پہنچے لیکن گلشن نے والد کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس کا والد سسر سے ملا ہوا ہے اور وہ لوگ اسے مار ڈالیں گے- عبدالکریم جن نے گلشن کو اس کے والد اور چچا کے حوالے کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر گلشن اپنی مرضی سے جانا نہیں چاہتی تو میں اسے ان لوگوں کے حوالے نہیں کروں گا-‘ بعد میں حقوق نسواں کی سر گرم کارکن عطیہ داؤد گلشن کھٹی کو اپنے ساتھ کراچی لے گئیں۔ پیر کے روز ٹھٹہ شہر میں بعض سماجی کارکنوں اور شہریوں نے گلشن کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کے خلاف ایک مظاہرہ کیا - دریں اثنا ٹھٹہ کی رکن سندھ اسیمبلی حمیرا علوانی نے گلشن سے ملاقات کی اور ان پر ہونے والے مظالم کی تفصیلات حاصل کیں- اس موقع پرگلشن رکن اسمیبلی سے چمٹ گئیں اور روتے ہوئے بتایا کہ اس کا سسر اس کو قتل کردے گا -حمیرا علوانی نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اسے انصاف دلانے کی پوری کوشش کریں گی اور اس معاملہ کو سندھ اسیمبلی میں اٹھائیں گی- ادھر پولیس نے گلشن کے سسر کانگل بڑے دیور رازو اور شوہر غلام محمد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ سسر اور دیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ شوہر مفرور ہیں- رہائی کے بعد جب گلشن کو تھانے پر لایا گیا تو ان کے پیر سوجے ہوئے تھے اور جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے گہرے نشانات موجود تھے -وہ بہت کمزور لگ رہی تھیں اور ان پر بے ہوشی کے دورے پڑ رہے تھے- حکومت اور علاقے کے اہل فہم لوگوں کے لئے ایک چیلنج ہے کہ وہ اس رجحان کو ادھر ہی روک دیتے ہیں یا کارو کاری کی طرح باقاعدہ ایک رسم بننے دیتے ہیں- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||