BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 March, 2008, 09:20 GMT 14:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خواتین آج بھی انصاف کی متلاشی‘

حقوق نسواں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ معاشرے کی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے
پاکستان میں دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں روشن خیال جماعتوں کی اکثریت سے کامیابی کے بعد حقوق نسواں کی تنظیموں نے بھی ان سے کئی امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔

ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو خواتین کی بہتری، فلاح اور تحفظ کے لیے مثبت قانون سازی کرنی چاہیے۔

صدر پرویز مشرف کے جو چند مثبت اقدامات تسلیم کیے جاتے ہیں، ان میں خواتین کو تینتیس فیصد نمائندگی کا حق دینا بھی شامل ہے ۔ ساٹھ مخصوص نشستوں پر یہ خواتین اسمبلی میں تو پہنچ گئیں مگر وہ ایسی کوئی قانون سازی کرانے میں کامیاب نہ ہوسکیں جس سے ان کی موجودگی کا احساس ہو اور عام عورت کو کوئی ریلیف مل سکے ۔

عورت فاؤنڈیشن کی ریجنل ڈائریکٹر انیس ہارون کا کہنا ہے کہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ ہی نہیں تھا کہ خواتین کی فلاح کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ’اگر حکومت کا ارادہ ہو تو بہت تبدیلی آسکتی ہے، جو بات ہم کرتے ہیں وہ اتنے لوگوں تک نہیں پہنچ سکتی اس کے برعکس حکومت یا ریاست کی طرف سے جو بات کی جاتی ہے اس کی پہنچ ملک کے کونے کونے تک ہوتی ہے۔ ان کے جو سیاسی ارادے ہوں گے وہ اس کے تحت ہی اقدام کریں گے اس لیے کہ وہ بہت سی چیزیں کرسکتے ہیں جن کے ہم صرف مطالبات کرسکتے ہیں‘۔

انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹس کے مطابق صدر مشرف کے دور اقتدار میں نجی عدالتوں یعنی جرگوں میں اضافہ ہوا جن میں سے کچھ کی سرپرستی تو اعلیٰ حکومتی حکام بھی کرتے رہے۔

فائل فوٹو
2008 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی پندرہ عام نشستوں پر خواتین امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے

وویمن ایکشن فورم کی رہنما عظمیٰ نورانی کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے جرگوں پر پابندی عائد کی مگر پچھلی سندھ حکومت خود ایسے جرگوں میں ملوث پائی گئی۔ اس دوران کوئی ایسے اقدامات نہیں کیے گئے جن سے خواتین کو تحفظ فراہم ہوسکے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں خواتین پر تشدد کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں جو انہیں تحفظ فراہم کرسکے۔ مختاراں مائی سے لیکر نسیمہ لبانو تک جنسی تشدد کا شکار خواتین آج بھی مکمل انصاف کی متلاشی ہیں۔ اس صورتحال کے باوجود مختاراں مائی پر امید ہیں وہ کہتی ہیں کہ’ابھی تک سپریم کورٹ میں مقدمہ بند پڑا ہے، انسان چھ سات سال انتظار کرے تب ہی انصاف ملتا ہے مگر اس کی بھی کوئی یقین دہانی نہیں ہے۔ اس لیے ایک انسان صرف امید ہی کرسکتا ہے‘۔

حقوق نسواں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ معاشرے کی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ وویمن ایکشن فورم کی رہنما عظمیٰ نورانی کہتی ہیں:’ لوگوں کی سوچ میں اسی وقت تبدیلی آسکتی ہے جب حکومت لبرل سوچ رکھے گی اور یہ سمجھے گی کہ مذہب، رسم و رواج کے نام پر جاری سلوک بند ہونا چاہیے۔ کارو کاری، وٹہ سٹہ، سوراہا جیسی نام نہاد رسومات کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے گزشتہ حکومت میں اپوزیشن میں ہونے کے باوجود حدود آرڈیننس میں ترمیم کے لیے حکمران اتحاد کا ساتھ دیا۔ پیپلزپارٹی کی نو منتخب رکن اسمبلی شازیہ مری کا کہنا ہے کہ خواتین پر تشدد اور انہیں ہراساں کیے جانے کے خلاف اور پناہ گاہوں کے حوالے سے بل پیش کیے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کو امید ہے کہ دیگر جماعتیں بھی ان کا ساتھ دیں گی۔

حقوق نسواں کی تنظیموں کے مطابق مذہب، رسم و رواج کے نام پر جاری سلوک بند ہونا چاہیے

شازیہ مری کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے منشور میں خواتین کے حوالے سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرے گی۔ جن کے تحت سرکاری ملازمتوں میں خواتین کا کوٹا دس میں سے بیس فیصد کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ کی طرح سپریم کورٹ میں بھی خواتین ججز مقرر کی جائیں گی اور ایسے قوانین جن سے خواتین کو ریلیف نہیں ملتا، ان میں ترمیم کی جائےگی۔

پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کی کامیابی کو پاکستان میں اعتدال پسندوں کی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ عورت فاؤنڈیشن کی انیس ہارون کا کہنا ہے کہ ایوان میں اب خواتین کی فلاح کے حوالے سے کوئی سپیڈ بریکر نہیں رہا ہے۔ ’یہ جماعتیں جو خود کو روشن خیال کہتی ہیں ان میں سے کچھ نے ہمارے ساتھ حدود آرڈیننس کی منسوخی کے وعدے کیے تھے۔ اگر انہیں کچھ وقت بھی دیا جائے تو پہلے سال میں کچھ نہیں ہوتا مگر کم سے کم ایسی علامات اور اشارے تو دیے جاسکتے ہیں کہ وہ ایسا کرنا چاہ رہے ہیں‘۔

2008 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی پندرہ عام نشستوں پر خواتین امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے جس کے بعد قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں خواتین کی تعداد پچہتر ہو گئی ہے تاہم ان کے متحد ہونے میں سیاسی وابستگیاں رکاوٹ ہیں۔

خاتون’عالمی یوم خواتین‘
حکومتی دعوے، این جی اوز کی تنقید اور ڈرامے
حبیب جالب 12 فروری 1983بارہ فروری 1983
جالب نے کہا ’ہٹو پولیس والو، چلو بیبیو‘
حدود قوانین کی شکار
اکثریت پنجاب سے، بلوچستان سے کوئی نہیں
اسی بارے میں
’خواتین کو کیا ملا‘
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد