ونی کیس: میر ہزار بجارانی فرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے ایک سات رکنی بنچ نے ’ونی اور سنگ چٹی کیس‘ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی میر ہزار خان بجارانی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔ درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران میر ہزار بجارانی کمرہِ عدالت میں موجود تھے۔ تاہم درخواستِ ضمانت مسترد ہوتے ہی وہ پولیس کی موجودگی کے باوجود فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ میر ہزار بجارانی کی طرف سے پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ بطور وکیل پیش ہوئے۔ درخواست برائے حفاظتی ضمانت کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کو مخالفین سے خطرہ ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ میر ہزار بجارانی نے جس جرگہ میں شرکت کی اس نے قتل کے بدلے لڑکیوں کو ونی کرنے کا نہیں بلکہ نقد رقم دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ان کے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وہ واقعہ کی تمام تفصیلات سے باخبر ہے۔ عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں امیر غریب سب برابر ہیں اور اس حوالے سے کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہے، چاہے کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ جسٹس نواز عباسی نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ونی جیسے واقعات قتل اور ڈکیتی سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ یاد رہے کہ رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیرِ مملکت برائے دفاع میر ہزار خان بجارانی، سندھ کے ضلع کشمور کی تحصیل ٹھل کے تعلقہ ناظم علی اکبر بنگلانی اور پیر آف بھرچونڈی عبدالخالق سمیت چودہ افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے قتل کا ایک مقدمہ قبائلی جرگے کے ذریعے نمٹاتے ہوئے خون بہا میں تین سے چھ سال عمر کی پانچ لڑکیوں کو مقتول کے خاندان میں بطور ونی بیاہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عدالت نے صوبہ سرحد میں ’سوارا‘ رسم کے تحت ہونے والی شادی جس میں تین سالہ دلہن اقراء اور سات سالہ دولہا عمران کی شادی کو منسوخ کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ رخشندہ ناز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی کے باپ پرویز کا لڑکے کے والد کے ساتھ لین دین تھا اور کاروبار میں نقصان کی وجہ سے لڑکی کے والد کے ذمہ کچھ رقم نکلتی تھی اور اس ضمن میں اس سال کے شروع میں کھاریاں میں ایک پنچائیت ہوئی تھی جس میں لڑکی کے والد کو اس رقم کے بدلے اپنی لڑکی کی شادی عمران کے ساتھ کرنے کا فیصلہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دیر چکدرہ کے مولوی گل رحیم نےان کا نکاح پڑھووایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقدمے میں ابھی تک چھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ بارہ افراد کی گرفتاری ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی۔ ثمرمن اللہ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ لوگ قبائلی علاقوں میں جاکر اس قسم کے جرگے کرتے ہیں کیونکہ وہاں پر ملکی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے پولیس افسران کو حکم دیا کہ فرسودہ رسومات کے تحت بدلہ صلح کے لیے کی جانے والی غیر شرعی اور غیرقانونی شادیوں اور کم عمر بچیوں کو بطور تاوان کا سختی سے نوٹس لیں اور اس سلسلے میں ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات درج کریں۔ عدالت نےمیانوالی کی رہائشی دو خواتین کی شادیوں کو بھی منسوخ کردیا جنہیں قتل کے بدلے مخالفین کے حوالے کردیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ان خواتین نے عدالت میں خلع کے لیے درخواست دی تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سنہ اُنیس سو بیاسی میں ناہید اور خاتون نامی بچیوں کا نکاح اس وقت کر دیا گیا تھا جب ان کی عمریں تین سے چار سال کے درمیان تھیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اُس وقت دولہے پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کتنے احمق لوگ ہیں۔ دولھاعرفان کی طرف سے سید رفاقت حسین عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جس وقت نکاح ہوا تھا اُس وقت دولھا پیدا بھی نہیں ہوا تھا تو پھر خلع کس بات کی۔ عدالت نے یہ شادی منسوخ کردی۔ |
اسی بارے میں دیر: ’ونی‘ کی شادی، پانچ گرفتار29 August, 2007 | پاکستان ونی کیس، مطلوب رکن اسمبلی روپوش16 August, 2007 | پاکستان ونی: پابندی کے باوجود رسم جاری 23 April, 2007 | پاکستان ’بچی کا 45 سالہ شخص سےنکاح‘21 January, 2007 | پاکستان سندھ: تیرہ سالہ ونی لڑکی قتل25 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||