BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 January, 2007, 16:32 GMT 21:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بچی کا 45 سالہ شخص سےنکاح‘

(فائل فوٹو)
ونی کی رسم کے خلاف ملک بھر میں پہلے بھی احتجاج ہوتا رہا ہے
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسمعیل خان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی پنچائیت نے ونی کے طور پر ایک تین سالہ معصوم بچی کا نکاح 45 سالہ شخص کے ساتھ پڑھوا دیا ہے۔ نام نہ بتانے کی شرط پر ایک پولیس افسر نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

ڈیرہ اسمعیل خان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سیف الرحمان بلوچ نامی شخص کی سربراہی میں قائم پنچائیت نے یہ فیصلہ تین دن قبل کیا جس کے مطابق تین سالہ بچی سمیرا بی بی کا نکاح 45 سالہ محبوب کے ساتھ کرا دیا گیا۔

انسانی ہمدردی کے تحت
 پنچایت کے سربراہ سیف الرحمٰان نے پہلے تو اس معاملے کو جھوٹا قرار دیا لیکن پھر انہوں نے تین سالہ سمیرا بی بی کو ونی کیے جانے کی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ تھا جس میں کئی جانیں ضائع ہو جاتیں لہذا ’انسانی ہمدردی‘ کے نام پر انہوں نے ونی کا فیصلہ دیا
مقامی صحافی

ڈیرہ اسمعیل خان کے ایک دورافتادہ گاؤں گنڈی عمر خان میں مقامی لوگوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ فاروق نامی شخص نے گاؤں کی ایک لڑکی نورین سے شادی کی خواہش ظاہر کی تاہم پہلے سے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کے والدین نے رشتہ دینے سے انکار کیا جس کے بعد فاروق اور مذکورہ لڑکی کسی نامعلوم پر منتقل ہوگئے۔

اس پر لڑکی کے ورثاء نے معاملہ مقامی پنچائیت کے سپرد کر دیا۔ سیف الرحمان بلوچ کی سربراہی میں قائم پنچائیت نے تین دن قبل فیصلہ سناتے ہوئے لڑکے کی تین سالہ بھانجی سمیرا بی بی کا نکاح ونی کے طورپر لڑکی کے 45 سالہ ماموں محبوب کے ساتھ کرادیا۔

ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ پنچایت کے سربراہ سیف الرحمٰان نے پہلے تو اس معاملے کو جھوٹا قرار دیا لیکن پھر انہوں نے تین سالہ سمیرا بی بی کو ونی کیے جانے کی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ تھا جس میں کئی جانیں ضائع ہو جاتیں لہذا ’انسانی ہمدردی‘ کے نام پر انہوں نے ونی کا فیصلہ دیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پنچائیت نے فاروق کو پانچ سال کے لیے علاقہ بدر کر دیا ہے۔

گاؤں گنڈی عمر خان میں مقامی خوانین کا اثر رسوخ زیادہ ہے جبکہ پنچائیت میں اکثریتی ممبران کا تعلق بھی انہی بااثر لوگوں سے ہے۔ مقامی لوگ بھی ان خوانین کے خوف کے باعث اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے جبکہ دو رہائشیوں نے اس شرط پر بی بی سی سے بات کی کہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔

اس سلسلے میں مقامی تھانہ درابند سے رابط کیا گیا تو ڈیوٹی پر موجود ایک اہلکار ریاض نے واقعہ سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں انہیں مقامی اخباری نمائندوں کے فون آ رہے ہیں لیکن تاحال علاقے سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

پاکستان میں ونی یا سورہ پر پابندی کے باوجود پنجاب اور سرحد کے مختلف علاقوں میں لڑکیاں اس قبیح رسم کی بھینٹ چڑھتی رہی ہیں۔ پارلیمان سے تحفظِ حقوقِ نسواں بل کے پاس ہونے کے بعد ملک میں ونی کا یہ پہلا واقعہ سامنے آیاہے۔

اسی بارے میں
ونی :سپریم کورٹ میں سماعت
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد