BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ونی کیس، مطلوب رکن اسمبلی روپوش

میر ہزار بجارانی
میر ہزار بجارانی عدالتی احکامات کے وقت اسمبلی اجلاس میں شریک تھے
سپریم کورٹ کی جانب سے ونی کیس میں جرگے کے دیگر ساتھیوں سمیت گرفتاری کے احکامات جاری ہونے کے بعد ضلع کشمور سے پی پی کے رکن قومی اسمبلی میر ہزار خان بجارانی اپنے دس ساتھیوں سمیت روپوش ہوگئے ہیں۔

کشمور پولیس کے سربراہ نور احمد پیچوہو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے جہاں سے بھی میر ہزار خان بجارانی کی موجودگی کی اطلاع ملے گی وہاں چھاپہ ضرور مارا جائےگا۔

کشمور میں جمعرات کی رات ضلع کے تمام پولیس افسران کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

ادھر عدالتی احکامات کے بعد میر ہزار خان بجارانی کے موبائل اورگھر کے فون سے جواب موصول نہیں ہو رہا ہے۔ ان کے قریبی ساتھی سردار جہانگیر راہوجو نے بھی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے میر ہزار خان بجارانی سے کسی بھی رابطے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر عدالتی احکامات کی خبر نشر ہونے کے بعد وہ رابطے میں نہیں رہے۔

میر ہزار بجارانی کے قریبی ساتھیوں کے مطابق عدالتی احکامات آنے کے وقت وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک تھے اور گرفتاری کے احکامات کے بارے میں سنتے ہی خاموشی سے اسمبلی سے باہر چلے گئے۔

پی پی پی رہنما اور سابق وزیرِ مملکت برائے دفاع میر ہزار خان بجارانی، تحصیل ٹھل کے تعلقہ ناظم علی اکبر بنگلانی اور پیر آف بھرچونڈی عبدالخالق سمیت چودہ افراد کے خلاف جرگہ کرنے اور تین سے چھ سال کی پانچ بچیاں ونی کےطور پر قتل کے معاوضے میں دشمن فریق کو دینے کا فیصلہ دینے کا الزام ہے۔

عدالت نے ٹھل کے قریب بنگلانی قبیلے کے دو فریقین میں صلح کرانے کے لیے کیےگئے اس جرگے کی رپورٹ مقامی اخبارات اور ٹی وی چئنلز پر آنے کے بعد ازخود نوٹس لیا تھا اور سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے بعد اٹھائیس جون دو ہزار چھ کو تھانہ ٹھل میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور مقامی پولیس نے ایک سال کے بعد بھی صرف تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔

بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ،جسٹس جاوید اقبال ،جسٹس سردار محمد رضا،جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس جاوید بٹر پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے اس ونی کیس کی سماعت کی اور کشمور پولیس کو حکم جاری کیا کہ ہزار خان بجارانی سمیت کیس کے تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔عدالت نے مقدمے کی سماعت تین ستمبر تک ملتوی کردی تھی۔

اسی بارے میں
’بچی کا 45 سالہ شخص سےنکاح‘
21 January, 2007 | پاکستان
سورہ میں اضافہ پر تشویش
11 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد