سورہ میں اضافہ پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدلہ صلح کے تحت کمسن لڑکیوں کے رشتے دینے کی رسم یعنی سورہ پر تحقیق کرنے والی ایک ماہر کا کہنا ہے کہ یہ رسم زیادہ خطرناک شکل اختیار کر رہی ہے جس سے معاشرے میں جرائم میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ ایتھنو میڈیا نامی ایک غیرسرکاری تنظیم کی سربراہ ثمر من اللہ نے یہ بات ہفتہ کو پشاور میں صوبہ سرحد کے دو اضلاع مردان اور صوابی میں چار ماہ تک سورہ کی رسم پر تحقیق کرنے کے بعد ایک رپورٹ کی رونمائی کے موقع پر کی۔ ثمر من اللہ گزشتہ تین برسوں سے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں سورہ کے خلاف آگہی پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس رپورٹ کی اشاعت سے قبل وہ اس رسم پر ایک مختصر انگریزی ڈاکومنٹری بھی تیار کر چکی ہیں۔ ’سورہ ۔ دی ہومن شیلڈ‘ نامی تازہ رپورٹ جوکہ انگریزی زبان میں لکھی گئی ہے ایک سو بیالیس صفحات پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کی کتابی شکل میں اشاعت بظاہر کافی مہنگی کی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ اگر وہ اس سنگین مسئلے پر عوامی آگہی پھیلانا چاہتی ہیں تو وہ اس کے لیے اردو یا مقامی زبانوں کی بجائے انگریزی کا سہارا کیوں لیتی ہیں، ثمر من اللہ کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کا اردو ترجمہ بھی جلد شائع کیا جائے گا۔ ’میں یہ کوششیں بین الاقوامی تنظیموں سے فنڈز کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذاتی دلچسپی کے لیے کر رہی ہوں‘۔
ثمر من اللہ کا کہنا تھا کہ چار ماہ کے دوران صرف مردان اور صوابی میں سورہ کے ساٹھ واقعات سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ سورہ کو استعمال میں لانے کی پہلی بڑی وجہ قتل، دوسرے نمبر پر غیرت یا شرم کے واقعات اور تیسری وجہ معاشی تنازعات ہیں۔ ’ان معاملات کے تصفیے کے لیے کمسن لڑکیوں کو دوسرے فریق کے حوالے کر دیا جاتا ہے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس رسم کی شکل و صورت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ ’یہ رسم بنیادی طور پر قیام امن کے لیے شروع ہوئی تھی لیکن اب اسے معاشی فوائد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے‘۔ حقوق نسواں کی کارکن ثمر من اللہ کا ماننا تھا کہ بدلتی شکل کا ایک مظہر غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں کمی اور اس کی جگہ سورہ میں اضافہ ہے۔ ’سورہ کی وجہ سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر کوئی اس پر تحقیق کرے تو معلوم ہوگا کہ قاتل اور مجرم اگر آزاد گھومیں گے تو یہ تو ہوگا‘۔ ثمر من اللہ نے بتایا کہ انہوں نے اس تحقیق کے دوران ناصرف اعداوشمار اکٹھے کیے بلکہ مختلف ذرائع یعنی پولیس اور عدلیہ کے ذریعے مداخلت بھی کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں اعلی عدالتوں کے کردار کی بہت تعریف کی۔ ’جب ان واقعات میں اعلی عدالتیں دلچسپی لینے لگیں تو پنجاب سے جہاں اس رسم کو ونی اور سندھ جہاں اسے سنگ چتی کہا جاتا ہے ایسے واقعات سامنے آنے لگے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بندوبستی علاقوں میں تو اس رسم کو ایک جرم قرار دیا گیا ہے لیکن اگر یہ قانون وفاق اور صوبہ سرحد کے زیر انتظام قبائلی علاقوں تک نہیں پھیلایا جائے گا یہ ظلم جاری رہے گا جہاں جرگے عورتوں کے مقدر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں سرحد: چار سال میں ساٹھ ’ونی‘02 July, 2006 | پاکستان میانوالی:’ونی‘ کی دیت ادا ہوگئی 11 April, 2006 | پاکستان ونی: ’لڑکیوں کوتحفظ فراہم کریں‘16 December, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کا حل نکالنے کی کوشش13 December, 2005 | پاکستان ونی: تنسیخ نکاح سماج کو نامنظور08 December, 2005 | پاکستان ’ہم خود کو زندہ جلا لیں گے‘05 December, 2005 | پاکستان ونی کے رشتے قانونی نہیں: حکومت29 November, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کی شادی پر حالات کشیدہ22 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||