ونی: پابندی کے باوجود رسم جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے جنوبی شہر رحیم یار خان میں کاری کی صلح کے لیے نوعمر لڑکی کی عمر رسیدہ شخص سے شادی کر دی گئی۔ مقامی عدالت نے لڑکی کے چچا کی درخواست پر لڑکی کے والدین اور اس کے شوہر کو عدالت طلب کر لیا ہے۔ پندرہ سالہ صوبیہ اور پینتالیس برس کے ذوالفقارکھوسہ کی شادی اتوار کو رحیم یار خان کے نواحی قصبے صادق آباد میں انجام پائی۔ دلہن صوبیہ کے چچا کورے خان کے وکیل میاں خلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ چھ برس قبل ایک شخص ابو سعید نے اپنی بیوی کو مبینہ طور پر کاری قرار دے کر قتل کر دیا تھا اور اس کے بعد شک پر وہ اور اس کے عزیز صوبیہ کے پھوپھی زاد بھائی مشیر احمد کو بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن ایک جرگے میں یہ فیصلہ ہوا کہ صوبیہ کو ونی کے طور پر ابوسعید کے بھائی ذوالفقار کھوسہ کے نکاح میں دیدیا جائے گا۔ صوبیہ کےچچا زاد بھائی عاشق حسین نے ٹیلی فون پر بتایا کہ وہ ایک غریب اور محنت کش خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ابوسعید طاقتور اور بااثر خاندان کا ہے۔ اس وقت انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر لڑکی کا رشتہ نہ دیا گیا تو وہ ان کے خاندان کے کسی بھی ایک فرد کو قتل کردیں گے۔ عاشق حسین کے بقول صوبیہ کے والد منظور احمد ڈر گئے اور انہوں نے صوبیہ کا رشتہ دینے کی حامی بھر لی حالانکہ اس وقت صوبیہ کی عمر آٹھ نو برس تھی۔ عاشق حسین کے مطابق لڑکی کے والد محنت مزدوری کے لیے سعودی عرب چلے گئے اور پچھلے دنوں واپس آئے تو ذوالفقار کھوسہ نے شادی کا مطالبہ کیا۔ پینتالیس برس کا ذوالفقار کھوسہ مقامی یونین کونسل کا نائب ناظم ہے اور پانچ بچوں کا والد ہے۔ میاں خلیل ایڈووکیٹ نے کہا کہ ذوالفقار کھوسہ نے صوبیہ، اس کے والدین اوربہن بھائیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا جس پر صوبیہ کے چچا کورے خان نے ان کے توسط سے ایک درخواست مقامی سول جج کی عدالت میں دائر کی جس میں کہا گیا کہ لڑکی نابالغ ہے اس لیے شادی کو روکا جائے۔ سول جج نے ذالفقار کھوسہ اور لڑکی کے والدین کو پیر کو عدالت طلب کیا لیکن وکیل کے بقول نوٹس وصول نہیں ہو پائے اور اتوار کو شادی ہوگئی۔
شادی کی تقریب میں پولیس کے اہلکار بھی موجود تھے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی اور اس کے والدین نے تحریری بیان دیا ہے کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ یہ شادی اپنی مرضی سے کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ایک نئے قانون کے تحت ونی کو خلاف قانون اورقابل تعزیرجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ میاں خلیل ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہوں نے ایک دوسری درخواست سیشن جج کو دی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ونی کے الزام میں دولہا اور شادی میں شریک دیگر افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو دس کے تحت مقامی تھانے میں فوجداری مقدمہ درج کرایا جائے۔ ایڈیشنل سیشن جج نے تھانہ بی ڈویژن رحیم یارخان کے سٹیشن ہاؤس آفیسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ چھبیس اپریل کو عدالت کو آگاہ کریں کہ انہوں نے مقدمہ درج کیوں نہیں کیا۔ |
اسی بارے میں ’کم عمری کا نکاح ختم ہو سکتا ہے ‘06 December, 2005 | پاکستان بھائی کی رہائی، تین بہنیں ’ونی‘06 December, 2005 | پاکستان میانوالی:’ونی کے واقعات میں اضافہ‘28 November, 2005 | پاکستان ’ونی، زندہ درگور ہونے والی بات ہے‘24 November, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کی شادی پر حالات کشیدہ22 November, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کا ایک اور شکار01 December, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||