BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 June, 2008, 13:47 GMT 18:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نابالغ بچی کا جبری نکاح

جبری شادی
کاروکاری کی رسم کے تحت آٹھ سالہ بچی کا جبری نکاح
سندھ کے ضلع گھوٹکی کے رہائشی مولابخش واسو نے کہا ہے کہ کارو کاری تنازعہ حل کرنے کے لیے ان کی آٹھ سالہ بچی الہوسائی کا برادری کے وڈیروں نے زبردستی نکاح کروادیا ہے۔

مقامی پولیس نے ان کی شکایت پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تھا مگر ضلعی جج گھوٹکی کے احکامات پر سرحد تھانہ میں نکاح خواں مولوی حاکم لکھن سمیت گیارہ افراد کے خلاف چار دن پہلے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔گھوٹکی پولیس کے ضلع سربراہ جاوید عالم اوڈھو نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ مقدمے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

ضلعی پولیس سربراہ نے بتایا کہ اس بارے میں تفتیش شروع کردی گئی ہے اور فریقین کو اپنے دفتر میں طلب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق فریقین میں رشتہ داری کے تنازعات جاری ہیں اور اس بارے میں مزید حقائق تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔

ضلعی پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ مقدمہ عدالتی حکم پر درج کیا گیا ہے جو غلط بھی ثابت ہوسکتا ہے اور درست بھی۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر ایس پی جانچ اپنی رپورٹ جاری کریں گے جس میں تمام حقائق سامنے آسکیں گے اور اسکی روشنی میں گرفتاریاں کی جائیں گی۔

مولابخش واسو ضلع گھوٹکی کے ایک گاؤں جمال واسو کے رہائشی ہیں۔ چار سال پہلے ان کے بھائی رشید احمد واسو پر کارو کاری کا الزام لگایا گیا تھا، جس کا جرگہ مقامی قبائلی سردار میر سندر خان سندرانی نے کیا تھا۔

مولابخش کےمطابق جرگے میں کاروکاری کے الزام کے بدلے رقم ادا کی جانی تھی مگر دوسرے فریق نے ان سے کمسن بیٹی کا رشتہ طلب کیا۔

سندھ میں ناجائز جنسی تعلقات کو کاروکاری کہا جاتا ہے اور اس فرسودہ رسم کے تحت عورتوں اور مردوں کےقتل کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔

اس رسم کے مطابق بیشتر فیصلے کسی عدالت میں نہیں بلکہ مقامی سرداروں اور وڈیروں کی بیٹھکوں پر کیا جاتا ہے۔

گھوٹکی کےمولابخش کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی کم عمر بیٹی کا نکاح کرنے سے انکار کیا اور اپنا گاؤں چھوڑ کر دوسرے علاقے میں نقل مکانی کرگئے اور تین سال بعد گاؤں واپس پہنچے۔ ان کے مطابق گاؤں واپسی پر برادری کے وڈیروں نے اسلحے کے زور پر ان کی آٹھ سالہ بیٹی کا زبردستی نکاح کرادیا ہے۔

مولابخش نے کہا کہ مقامی پولیس ان کی بیٹی کےنکاح کے مقدمے میں گرفتاریاں کرنے سے گریزاں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار بھی کیا لیکن بعد میں رشوت لے کر انہیں چھوڑدیا۔

مولابخش نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی آٹھ سالہ بیٹی الہوسائی کا زبردستی نکاح کرنے والے تمام افردا کو گرفتار کیا جائے کیونکہ وہ اپنی معصوم بیٹی کو کاروکاری کی نام نہاد رسم کا شکار نہیں بنانا چاہتے۔

اسی بارے میں
سندھ: ’475 خواتین کا قتل‘
28 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد