’جس میں غیرت نہیں وہ مسلمان نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے جنوبی شہر بہاولنگر میں غیرت کے نام پر بڑی بہن کو ایک محلے دار مرد سمیت ہلاک کرنے کے ملزم محمد اسلم نے کہا ہے کہ ’جس میں غیرت نہیں وہ مسلمان ہی نہیں‘۔ بہاولنگر کے نواحی قصبے کی الہی سین اور غلام نبی کو گذشتہ ہفتے غیرت کے نام پر انیٹیں مار کے اور گلا گھونٹ کرقتل کیا گیا تھا۔ بہاولنگر سے کوئی تیس کلومیٹر دور قصبہ ڈونگا بونگا کے گاؤں کھاٹاں میں قتل ہونے والی الہی سین کے گھر میں ڈیڑھ دو سو کے قریب لوگ موجود تھے ان میں سے بیشتر نے اس دہرے قتل کی حمایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں اجتماعی سنگ ساری کا نشانہ نہیں بنایا گیا البتہ اگرانہیں علم ہوجاتا تو شائد سب مل کر ہی انہیں مار دیتے۔ نام نہاد غیرت کا نشانہ بننے والی الہی سین کے خون کے چھینٹے اب بھی اس کے کمرے میں موجود تھے جبکہ تھانہ ڈونگا بونگا کی حوالات میں قید اس کےدونوں بھائی محمد اسلم اور محمد مقبول کے چہروں پر اطمینان تھا۔ ایک سوال کے جواب میں ہتھکڑی لگے محمد مقبول نے کہا کہ ’گناہ گار میں نہیں بلکہ میری بہن تھی جسے میں نے مار کے وہی کیا جو غیرت کہتی تھی‘۔ الہی سین کا گھر پندرہ برس قبل اسی بھائی کی خاطر اجڑا تھا جب وٹہ سٹہ میں بیاہی جانے والی الہی سین کے جواب میں اس کے شوہر نے اپنی بہن کی شادی مقبول سے نہیں کی تھی۔
الہی سین اپنے شوہر کا گھر چھوڑ آئی اور بھائی مقبول کے گھر اکیلی رہنے لگی مقبول نے تو شادی کر لی جس سے اس کے آٹھ بچے بھی ہیں لیکن الہی سین نے طلاق نہیں لی کیونکہ وہ بھائی کی خاطر اپنے شوہر سے انتقام لینا چاہتی تھی۔ مقبول ماچھی برادری سے تعلق رکھتا ہے اور غلام نبی کے اہل خانہ سید کہلاتے ہیں۔ ملزمان کی برادری کے ایک شخصں ارشاد احمد نے کہا کہ غیر برادری میں شادی کو بھی اتنا ہی برا سمجھا جاتا ہے جتنا برا ناجائز تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل یہ طعنے ہی انسان کو جینے نہیں دیتے۔ محمد اسلم اور مقبول نے کہا کہ انہیں آٹھ نو ماہ سے طعنے مل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس رات جب انہوں نے الہی سین کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اس نے کھولنے میں چار پانچ منٹ کی تاخیر کی اور جب دروازہ کھلا تو غلام نبی اس کی چارپائی کے نیچے چھپا ہوا تھا۔
ملزمان نے کہا کہ جب وہ غلام نبی کو قتل کر رہے تھے تو ان کی بڑی بہن نے دوسرے کمرے میں چھپ کر اپنی جان بچانا چاہی لیکن انہوں نے اسے بھی نکال کر غلام نبی کے قریب ہی قتل کر دیا۔ محمد اسلم سے جب یہ پوچھا گیا کہ جس بہن نے انہیں ماں بن کر پالا اسی کوقتل کرتے ہوئے انہیں رحم نہیں آیا؟تو ایک ملزم بھائی نے کہا کہ اس نے ہماری عزت کا خیال نہیں کیا تھا تومیں اس کا خیال کیوں کرتا؟ یہ خیالات صرف گرفتار محمد اسلم کے ہی نہیں بلکہ گاؤں کھاٹاں کے بیش تر مردوں کے بھی تھے۔ ایک نوجوان محمد حفیظ نے کہا کہ اگر میری بہن بھی اسی طرح پکڑی جاتی تو میں بھی اسے مار دیتا۔ ادھیڑ عمر کے ارشاد احمد نے کہا کہ اس قتل کے بعد اس گاؤں کی تمام عورتوں اور لڑکیوں کو عبرت ہوگی اور اس قسم کی حرکت کرنے سے پہلے وہ یہ ضرور سوچیں گی کہ اس کام کا انجام کیا ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ کی خاتون نائب صدر رکن قومی اسمبلی مہناز رفیع نےگاؤں کے لوگوں کے اس رویے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جلد ہی ایک بل اسمبلی میں لانے والی ہے جس میں وٹہ سٹہ کے تحت زبردستی کی شادی کو خلاف قانون قرار دیا جائے گا۔ الہی سین کے ہمراہ قتل ہونے والے غلام نبی کے اہل خانہ مصر ہیں کہ یہ قتل ایک سازش ہے اور غیرت کا نتیجہ نہیں ہے البتہ ضلعی پولیس افسر ظفر عباس ان کے موقف سے متفق نہیں ہیں اور وہ اسے غیرت کے نام پر قتل ہی قرار دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ ان کی تفتیش تقریبا مکمل ہے اور جلد چالان عدالت بھجوا دیا جائے گا۔
پاکستان میں گذشتہ برس منظور ہونے والے ایک قانون کے تحت غیرت کے نام پر ہونے والے قتل میں ملزمان کو اب اس وجہ سے رعایت تو نہیں مل سکتی البتہ وہ قصاص و دیت کے اسلامی قانون کے تحت اس مقدمہ میں صلح ہو سکتی ہے۔ الہی سین اور غلام نبی کو قتل کرنے کے بعد ملزمان بظاہرمطمئن نظر آ رہے تھے۔ محمد اسلم نے کہا کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ انہیں پھانسی بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ملزمان پرامید تھے کہ وہ پھانسی سے بچ سکتے ہیں۔ مقبول نے بی بی سی کے نامہ نگار سے بھی کہا کہ وہ ان کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ مقبول نے کہا کہ اگر انہوں نےصحیح کیا ہے تو اللہ انہیں بچا لے گا۔ ملزمان کے برادری کے ایک شخص نے کہا کہ الہی سین کا کوئی وارث نہیں جب کہ غلام نبی کا سوتیلا باپ رقم کے لیے صلح کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبول ڈیڑھ ایکڑ اراضی کا مالک ہے جسے وہ اپنی جان بچانے کے لیے فروخت کردے گا۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چار برس کے دوران چار ہزار ایک سو افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا اور ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر خواتین تھیں۔ | اسی بارے میں ’قتل سازش کا نتیجہ، غیرت نہیں‘31 January, 2007 | پاکستان ڈونگا بونگا: غیرت کے نام پر قتل30 January, 2007 | پاکستان ’حکومتی پیش رفت غیرتسلی بخش‘10 July, 2006 | پاکستان غیرت کےنام پرقتل، پاکستانیوں کو سزا29 June, 2006 | پاکستان ڈنمارک:غیرت کے نام پر قتل پر سزا28 June, 2006 | پاکستان سرحد: غیرت کے نام پر قتل نظر انداز29 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||