BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 July, 2006, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومتی پیش رفت غیرتسلی بخش‘

طالبان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد وہ حکومت سے بہت کچھ توقع کر رہے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ایک ماہ کی عارضی اور مشروط جنگ بندی کی آدھی مدت گزر جانے پر حکومتی شرائط پر پیش رفت کو غیرتسلی بخش قرار دیا ہے۔

ادھر میرعلی میران شاہ روڈ پر ایک دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے ایک قبائلی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

حکومت کی القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مزاحمت کرنے والے شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان نے دو ہفتے قبل اس عارضی جنگ بندی
کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ قدم حکومت کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیئے اٹھایا ہے۔

اس جنگ بندی کے دو ہفتے گزر جانے کے بعد مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی سے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے اب تک کے ردعمل کو مایوس کن قرار دیا۔

عبداللہ کا کہنا تھا کہ ایک ماہ کی جنگ بندی میں آدھا وقت گزر چکا ہے اور حکومت مزید وقت ضائع کیئے بغیر اہم اقدامات کا اعلان کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے فوراً بعد حکومت نے خیرسگالی کے طور پر قبائلیوں کی مراعات بحال کر دیں اور چند افراد کو رہا کر دیا لیکن اس کے بعد
سے مزید کوئی اقدام دیکھنے کو نہیں مل رہا۔

دو ہفتوں کی حکومتی کارکردگی کا بظاہر جائزہ لیتے ہوئے مقامی طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان ابتدائی دنوں کے اقدامات کے بعد حکومت مکمل طور پر خاموش ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ تو قیدیوں کی رہائی میں مزید کوئی پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہی چوکیوں پر کوئی نرمی دیکھی جا رہی ہے اور اب بھی بڑی تعداد میں قبائلی قیدی حکومت کی حراست میں ہیں۔

صوبائی دارا لحکومت پشاور میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل علی محمد جان اورکزئی نے کہا ہے کہ جنگ بندی امن کی راہ پر پہلا بڑا قدم تھا اور وہ بڑی احتیاط اور مرحلہ وار طریقے سے ہر پہلو کا جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ادھر پیر کی سہہ پہر میران شاہ اور میر علی کے درمیان سڑک پر سکیورٹی فورسز کے گزرتے ہوئے قافلے کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ نہ تو قیدیوں کی رہائی میں مزید کوئی پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہی چوکیوں پر کوئی نرمی دیکھی جا رہی ہے اور اب بھی بڑی تعداد میں قبائلی قیدی حکومت کی حراست میں ہیں
عبداللہ فرہاد

عینی شاہدین کے مطابق فوج اور نیم فوجی ملیشیا پر مشتمل قافلہ گزر چکا تھا تاہم آخر میں آنے والے ایک ٹینکر میں عیدک کے مقام پر ایک دھماکہ ہوا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ سے ایک قبائلی ہلاک جبکہ مدرسے کے دو طالب علم زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ علاقے میں امن اور صلح کے مخالفین کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ ’یہ شیطان نہیں چاہتے کہ شمالی وزیرستان میں امن قائم ہو‘۔

سرکاری ذرائع اسے بارودی سرنگ کا دھماکہ قرار دے رہے ہیں تاہم مقامی طالبان نے اسے مسترد کیا ہے۔ مقامی طالبان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد وہ حکومت سے بہت کچھ توقع کر
رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد