کوئٹہ میں بم دھماکہ، پانچ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں بلیلی کے علاقے میں کرک مدرسے میں ایک دھماکے سے کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ کوئٹہ کے پولیس افسر وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا علم نہیں ہو سکا۔ تاہم ماہرین اس کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ اس دھماکے سے دینی مدرسے کے پانچ طالبعلم ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں جنہیں سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس لایا گیا ہے۔ یہ مدرسہ آغا جان کے مدرسے کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ شہر سے کوئی آٹھ کلومیٹر دور بلیلی کے مقام پر واقع ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد آٹھ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سول ہسپتال میں موجود ڈاکٹر جعفر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس دو لاشیں اور سات زخمی لائے گئے ہیں جبکہ بولان میڈیکل کمپلکس میں ایک لاش اور ایک زخمی کو لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ کچھ لاشوں کی حالت انتہائی خراب تھی جنھیں ہسپتال نہیں لایا جا سکتا تھا اس لیے انھیں ورثا ساتھ لے گئے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ س واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس دھماکے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان:پانچ سرکاری ملازم قتل19 August, 2008 | پاکستان گیس لائن کو دھماکے سے اڑا دیا 23 August, 2008 | پاکستان بلوچستان میں یومِ آزادی پر یومِ سیاہ12 August, 2008 | پاکستان بلوچ تنظیموں کی فائر بندی 01 September, 2008 | پاکستان عورتوں کا قتل، نصیر آباد میں خاموشی09 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||