کوئٹہ: دھماکہ خیز مواد برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کے قریب ہزار گنجی کے علاقے میں فرنٹیئیر کور کے اہلکاروں نے ایک کارروائی میں مبینہ طور پر ایک گاڑی سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ مری کیمپ سے لوگوں نے بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑی تعداد میں بے گناہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ کوئٹہ کے پولیس افسر اکبر آرائیں نے بتایا ہے کہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے ایک گاڑی کو پکڑا ہے اور کچھ افراد نے فائرنگ بھی کی جس سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ ایف سی اہلکاروں نے زخمی شخص کے سمیت چار افراد کو حراست میں لیا ہے جس کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی پولیس کے پہنچنے سے پہلے کی گئی ہے اور رات گئے دیر تک علاقے میں تلاشی کا کام جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے جس کی مقدار سات سو کلوگرام سے ایک ہزار کلو گرام تک ہے۔ دریں اثنا مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ایف سی کے اہلکاروں نے بلا اشتعال فائرنگ کی ہے لوگوں کو ہراساں کیا گیا ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں اور تین درجن سے زیادہ بے گناہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ہزار گنجی کے اس علاقے میں مری قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ یاد رہے یہ کارروائی اس وقت کی گئی ہے جب ایک روز پہلے دبئی میں صدر پاکستان آصف زرداری نے نواب خیر بخش مری کے بیٹے گزین مری سے اہم ملاقات کی ہے۔ | اسی بارے میں ’سیاسی مقدمات واپس ہوں گے‘28 August, 2008 | پاکستان ’رمضان میں فوجی آپریشن معطل‘30 August, 2008 | پاکستان مورچوں کا شہر02 September, 2008 | پاکستان بلوچستان: کالعدم تنظیموں کے حملے14 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||