BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 September, 2008, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مورچوں کا شہر

فائل فوٹو
کوئٹہ میں جگہ جگہ پولیس اور فوج کی چوکیاں ہیں
آج سے تقریباً پانچ برس قبل جب میں نے کوئٹہ کو خیر باد کہا تھا تو اس وقت اس شہر کی فضاء میں اتنی سوگواری، لوگوں کے چہروں پر غیر یقینی پن اور خوف کے سائے نہیں تھے جس قدر اس بار جاتے وقت دیکھنے کو ملے۔

بلوچستان میں بلوچ مزاحمت اور فوجی آپریشن کے بعد کوئٹہ شہر ایک جنگ زدہ شہر کا سا سماں پیش کر رہا ہے۔

پندرہ لاکھ سے زائد آبادی کے اس شہر کے ہر کونے پر ریت کی بوریوں سے بنے مورچوں کے ساتھ ہلکے اور بھاری اسلحے سے لیس فرنٹیئر کور کے جوان نظر آتے ہیں۔ اپنے قیام کے دوران مجھے کوئٹہ مورچوں کا ہی شہر لگا جس کے پاس سے گزرتے ہوئے خوف کا احساس جکڑ لیتا ہے۔

نواب اکبر خان بگٹی کی دوسری برسی کے موقع پر کوئٹہ سمیت پورے صوبے میں ہڑتال تھی اور سکیوٹی کے اتنے سخت انتظامات کوئٹہ میں طویل عرصے تک قیام کے دوران نہیں دیکھے تھے۔ پولیس سربراہ کے بقول شہر میں ایک سو پچاس سے زیادہ چیک پوسٹیں قائم کی گئی تھیں۔

 پندرہ لاکھ سے زائد آبادی کے اس شہر کے ہر کونے پر ریت کی بوریوں سے بنے مورچوں کے ساتھ ہلکے اور بھاری اسلحے سے لیس فرنٹیئر کور کے جوان نظر آتے ہیں۔ اپنے قیام کے دوران مجھے کوئٹہ مورچوں کا ہی شہر لگا جس کے پاس سے گزرتے ہوئے خوف کا احساس جکڑ لیتا ہے۔

دو روز تک موبائل کی سروس وقفے وقفے سے منقطع ہوتی رہی تاکہ تخریبی کاروائیوں میں رکاوٹ ڈالی جا سکے مگر یہ میرے لیے اس لحاظ سے ایک حیران کُن بات تھی کہ چار سال سے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں رپورٹنگ کرنےکے دوران مجھے طالبان کے زیر اثر علاقوں میں ایک آدھ موقع کے سِوا کبھی بھی موبائل یا فون سروس کو منقطع ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔

یہاں تک کہ چند روز قبل واہ کینٹ میں ہونے والے دو خودکش حملوں کی ذمہ داری طالبان ترجمان نے ملکی اوربین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے موبائل فون پر بات کرتے ہوئے قبول کی۔

کئی صحافی دوستوں سے ملاقاتوں میں معلوم ہوا کہ وہاں پر میڈیا کے نمائندے حکومت کی جانب سے بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی کی کارروائیوں کی کھل کر رپورٹ کرنے کے حوالے سے شدید حکومتی دباؤ محسوس کررہے ہیں۔ بعض ایک نے تو بتایا کہ انہیں بلا کر خبردار کیا گیا ہے کہ وہ’سطحی رپورٹنگ پر ہی اکتفاء کر لیا کریں‘۔

کوئٹہ کی وہ فوجی چھاؤنی جس سے گزر کر لوگ ذاتی گاڑیوں اور لوکل بسوں میں تفریحی مقام ہنہ جھیل اور اوڑک جایا کرتے تھے اب ان تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ چھاؤنی اب عام شہریوں کے لیے ’نوگو ایریا‘ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ چھاؤنی میں سخت سکیورٹی کو دیکھ کر مجھے افغانستان کا دارالحکومت کابل یاد آیا جہاں پر بعض علاقوں میں بھی اسی طرح کی انتہائی درجے کی سکیورٹی دیکھنے کو ملتی ہے۔

 کوئٹہ میں ٹریفک پولیس کے بعض اہلکاروں کو’ ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ٹریفک پولیس کے اہلکار ڈیوٹی دینے سے بظاہر کترارہے ہیں جس کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کا نظام تقریباً درہم برہم ہوگیا ہے۔

کوئٹہ میں لوگوں کو اپنے گاؤں یا تفریحی مقامات تک پہنچنے کے لیے شہر سے باہر ایک طویل سڑک سے گزر کر پہنچنا ہوگا۔ آج سے پانچ سال پہلے شہر کے بازاروں میں فوجی گاڑیاں نظر آتی تھیں اور چھٹی کے دن سستے غیر ملکی سامان کے لیے مشہور مارکیٹ ’روسی گلی‘ میں فوجیوں کے اہل خانہ خریداری کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ مگراب وہ مارکیٹ ویران پڑی ہے۔

ایک دکاندار نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور’ ٹارگٹ کلنگ‘ کے بعد فوجیوں اور فرنٹیئر کور کے اہلکار کا آنا بند ہوگیا ہے جس سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان کے بقول’ ہمارا زیادہ تر کاروبار ان کی ہی وجہ سے چلتا تھا اور ہم چھٹی کے دن کا بے تابی سے انتظار کرتے تھے لیکن اب دکان کا کرایہ پورا کر لیں تو یہ بھی بہت ہے۔‘

کوئٹہ میں ٹریفک پولیس کے بعض اہلکاروں کو’ ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ٹریفک پولیس کے اہلکار ڈیوٹی دینے سے بظاہر کترا رہے ہیں جس کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کا نظام تقریباً درہم برہم ہوگیا ہے۔

ڈبل روڈ، باچا خان چوک اور ایک آدھ جگہ پر ٹریفک پولیس کی موجودگی کے سِوا باقی ہرجگہ پر خود شہریوں کو ٹریفک نظام سنبھالتے ہوئے دیکھا۔ جہاں ٹریفک پولیس اہلکار نظر آئے بھی تو ان کے ایک ہاتھ میں کلاشنکوف ہے جبکہ دوسرے سے اشارہ کرتے ہیں۔

آدھ گھنٹے تک ٹریفک میں پھنسنے کے بعد میں نے اپنے زمانہ طالبعلمی کے وردی میں ملبوس ایک وکیل دوست کوگاڑیوں کیے لیے راستہ بنانے میں مصروف پایا۔

پشاور واپس پہنچ کر کالعدم بلوچ تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلکن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کی جانب سے بلوچستان میں اپنی مسلح کارروائیاں غیر معینہ مدت تک بند کرنےکے اعلان سن کر دل میں اس امید نے انگڑائی لی کہ جب اگلی بار اپنے شہر جاؤں تو شاید ’اسی کوئٹہ کا دیدار نصیب ہوگا جس سے میں پانچ سال پہلے چھوڑ کے نکلا تھا جس کے لیے ممتاز بلوچ شاعر عطاء شاد نے کہا تھا کہ۔۔۔۔

’ کوہساروں کی عطاء رسم نہیں خاموشی
رات ہوجائے تو بہتا ہوا چشمہ بو لے‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد