بگٹی کی برسی پر ہڑتال اور پہیہ جام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ سردار نواب اکبر بگٹی کی دوسری برسی کے حوالے سے بلوچستان میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے اور پہیہ جام ہڑتال ہے جبکہ سندھ میں بھی برسی کے موقع پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اللہ یار میں جمہوری وطن پارٹی کے میر عالی گروپ کے جلسہ کے دوران دھماکہ ہوا ہے جس میں پچیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ڈیرہ اللہ یار سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دھماکہ جلسہ گاہ کے قریب ہوا جس سے بھگدڑ مچ گئی۔عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دھماکہ ایک موٹر سائیکل میں ہوا ہے جو جلسہ گاہ کے لیے لگائے گئے شامیانے کے پاس کھڑی کی گئی تھی۔ ڈیرہ اللہ یار ہسپتال میں موجود مقامی صحافی شریف منگی نے بتایا ہے کہ پچیس زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ہے جن میں دو پولیس اہلکار اور چار بچے بھی شامل ہیں۔ آٹھ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
اس دھماکے سے پانچ منٹ پہلے ڈیرہ مراد جمالی میں ایک پٹرول پمپ کے قریب میدانی علاقے میں ایک دھماکہ ہوا تھا لیکن اس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ بلوچستان میں منگل کو بزرگ رہنما نواب اکبر بگٹی کی دوسری برسی کے سلسلے میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہے دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکیں ویران پڑی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ بگٹی کے مختلف مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات ہیں ان میں ایک گیس پائپ لائن اور بجلی کے دو کھمبوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پیر کوہ ڈولی چیک پوسٹ اور فرنٹیئر کور کے قلعہ میں راکٹ داغے گئے ہیں۔ اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ڈیرہ بگٹی میں دھماکوں اور حملوں کی زمہ داری اپن تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ کراچی
پریس کلب کے باہر منگل کی شام کو جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں نواب اکبر کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ سابق صدر پرویز مشرف کو پھانسی دینے کے مطالبات کر رہے تھے۔ اس مظاہرے سے نواب اکبر کے بھتیجے فہد بگٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات چاہتی ہے تو پھر یہ آپریشن آخر کیون بند نہیں کیا جاتا۔فہد بگٹی کا کہنا تھا کہ نواب اکبر کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے چھوٹی قومیتوں کے حقوق ، بلوچستان کے ساحل اور وسائل کی بات کی تھی، اگر یہ جرم ہے تو بلوچستان کا ہر فرد یہ جرم کرتا رہے گا۔ انہوں نے بلوچ قوم پرست جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر نواب اکبر بگٹی کے خواب کو پورا کریں۔ سانگھڑ میں بھی پانچ سو سے زائد بگٹیوں نے کوٹ نواب اکبر سے سانگھڑ پریس کلب تک ریلی نکالی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچ اپنا بدلہ سو سال تک نہیں بھولتے اور نواب اکبر اور معصوم بلوچوں کے قتل عام کا بدلہ لیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں بگٹی:دوسری برسی، آٹھ ہلاکتیں؟25 August, 2008 | پاکستان بگٹی:دوسری برسی، پانچ ہلاکتیں؟25 August, 2008 | پاکستان بگٹی برسی: یوم سیاہ، ہڑتال کی اپیل25 August, 2007 | پاکستان سوئی دھماکہ، پولیس اہلکار زخمی12 August, 2007 | پاکستان رازق بگٹی قاتلانہ حملے میں ہلاک27 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||