’کسی سے بھی مدد لے سکتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی نے کہا ہے کہ انہیں پاکستان نہیں بلکہ بلوچستان کی سالمیت عزیز ہے اور اس کے دفاع کے لیے بھارت، افغانستان اور ایران سمیت تمام ممالک سے امداد بخوشی قبول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشن گزشتہ چار روز سے نہیں بلکہ گزشتہ چار سالوں سے مسلسل جاری ہے جس میں بڑے پیمانے پر بیگناہ لوگ مارے جا چکے ہیں ۔ نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے براہمداغ بگٹی نے کہا کہ وسائل کو لوٹنے اور بلوچ قوم کو پسماندہ رکھنے کے لیے آپریشن کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے حکمران بلوچ قوم کو تباہ کررہے ہیں۔ ’ ہم اپنی سرزمین اور اپنے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہاں آئے گا اور ترقی کے نام پر ہمارے وسائل لوٹیں گے تو مزاحمت تو ہوگی اور مزاحمت چار سالوں سے ہوبھی رہی ہے۔‘ پڑوسی ملک سے اسلحہ کی فراہمی سے متعلق سوال کے جواب میں براہمداغ کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان کی نہیں بلوچستان کی سالمیت عزیز ہے۔ ’پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے وہ امریکہ کی جانب سے ملنے والی امداد اور اسلحہ بلوچوں کے خلاف استعمال کرسکتا تو ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ ہم ہر بیرونی امداد قبول کریں۔‘ براہمداغ بگٹی نے کہا کہ ابھی تک کسی بھی ملک نے امداد فراہم نہیں کی لیکن اگر بھارت ،افغانستان اور ایران سمیت کسی نے بھی مدد اور تعاون کی پیشکش کی تو اسے بخوشی قبول کریں گے۔ براہمداغ بگٹی نے کہا کہ سیکورٹی فورسز وسائل لوٹنے اور وہ اپنی سرزمین کی دفاع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گیس تنصیبات پنجاب اور پاکستان کے نہیں بلکہ یہ بلوچ قومی دولت ہے اگر کوئی زبردستی لیجانے کی کوشش کریں گا تو بلوچ قوم مزاحمت کریں گے۔ مذاکرات کے حوالے سے براہمداغ بگٹی نے کہا تھا کہ یہ مذاکرات نہیں بلکہ فوج کو سنبھلنے کا ایک موقع فراہم کرنا تھا انہوں نے کہا کہ تمام بلوچوں کو اپنی سر زمین کےلیے قربانیاں دینی ہوں گی اور مذاکرات سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ براہمداغ بگٹی نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے پہلے دن چالیس سے پچاس سیکورٹی اہلکار مارے گئے ان کا تمام اسلحہ اور سامان مزاحمت کار اپنے ساتھ لےگئے۔ براہمداغ بگٹی نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز نےگزشتہ چار دنوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں میں بمباری کی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ساٹھ سے زائد بے گناہ افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قبائل کے افراد شرپسند نہیں بلکہ اپنے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں انہوں نے کہا کہ پہلے دن ہمارے صرف آٹھ مزاحمت کار مارے گئے۔ براہمداغ بگٹی نے کہا کہ بلوچ اپنی سرزمین اور وسائل پر اختیار اور آزاد قوم کی حیثیت سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ براہمداغ بگٹی نے کہا کہ جب تک پنجاب کی آرمی بلوچستان میں موجود رہے گی اس وقت تک ان پر حملے جاری رہیں گے۔ براہمداغ بگٹی نے کہا کہ جب کوئٹہ میں کچھ آباد کار مارے جاتے ہیں تو اس پر بہت واویلا ہوتا ہے لیکن جب ڈیرہ بگٹی میں سینکڑوں افراد کو مارا جاتا ہے اوران کے گھر تباہ کردیئے جاتے ہیں تو میڈیا سمیت کوئی بھی اس کے خلاف آواز بلند نہیں کرتا ۔ | اسی بارے میں کوئٹہ:پولیس کی گاڑی پر حملہ13 May, 2008 | پاکستان ’میری رہائی بہتری کا معیار نہیں‘16 May, 2008 | پاکستان قائد حزب اختلاف کا کمرہ بند16 May, 2008 | پاکستان بلوچستان:وزراء کی تعداد 44 ہو گئی21 May, 2008 | پاکستان شپ بریکنگ، چیئرمین ہلاک21 May, 2008 | پاکستان بلوچستان: ایٹمی دھماکوں پر احتجاج28 May, 2008 | پاکستان بلوچستان: ریل کا نظام معطل29 May, 2008 | پاکستان وزیر اعلیٰ، مظاہرین کی بات چیت29 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||