BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 May, 2008, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: ایٹمی دھماکوں پر احتجاج

بلوچستان احتجاج
چاغی پہاڑوں میں دھماکوں کے بعد علاقے میں مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں
بلوچستان میں قوم پرست جماعتیں اور تنظیمیں آج کے دن چاغی میں کیے گئے ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے یوم سیاہ منا رہی ہیں اور اس حوالے سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے جبکہ مسلم لیگ نواز اس دن کو یوم تکبیر کے طور پر منا رہی ہے۔

کوئٹہ میں مری اتحاد بلوچ نینشل فرنٹ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور بلوچ خواتین پینل کے قائدین اور کارکنوں نے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور شہر میں ریلی نکالی گئی ہے۔ یہ ریلی سائنس کالج سے شروع ہوئی اور منان چوک پر مقررین نے ریلی سے خطاب میں کہا ہے کہ چاغی میں کیےگئے دھماکوں سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ میں مسلم لیگ نواز کی جانب سے اس دن کو یوم تکبیر کے طور پر منایا جا رہا ہے مقامی قائدین کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں سے ملک کو ناقابل تسخیر بنا دیا گیا ہے۔

بلوچ نیشنل فرنٹ کے رہنما صادق ریسانی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایٹمی دھماکے اور میزائل کے تجربوں کے لیے بلوچستان کی سرزمین استعمال کی جاتی ہے جس سے مقامی لوگوں نے نقل مکانی کر لی ہے۔

بلوچستان نینشل پارٹی مینگل گروپ نے بھی اپنے دفاتر اور گھروں پر سیاہ پرچم لہرائے ہیں۔

میں نے چاغی میں لوگوں سے پوچھا کہ ایٹمی دھماکوں کو دس سال ہوگئے ہیں تو ان دس سالوں میں مقامی لوگوں پر کیا گزری ہے تو انھوں نے کہا کہ مختلف بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

چاغی میں نوجوانوں نے چاغین رایٹس موومنٹ قائم کی ہے اور اس تنظیم کے چیئر مین حفیظ سنجرانی کے مطابق مقامی بیماریاں عام اور علاج کی سہولتیں نہیں ہیں۔ پانی کا فقدان ہے اور زیر زمین پانی کی سطح نیچے گر گئی ہے۔

اس تنظیم کے نائب چیئرمین عبدالخالق نے بتایا کہ آج سے دس سال پہلے جب دھماکے ہوئے تھے تو لوگوں پر کیا گزری تھی۔ انھوں نے کہا کہ جب دھماکے ہوئے تو پہاڑوں کا رنگ کالا پڑ گیا اور دھواں اٹھنے لگا جس سے لوگ خوف زدہ ہو گئے۔ بعد میں خبروں میں بتایا گیا ہے ایٹمی دھماکے کیے گئے ہیں۔

عبدالخالق کے مطابق کچھ عرصہ بعد لوگوں کو جلد کی بیماریاں ہونے لگیں اور پیٹ خراب رہنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ چاغی میں سونے کے وسیع ذخائر ہیں اور سالانہ حکومت پاکستان کو تفتان بارڈر سے اربوں روپے کا منافع ملتا ہے لیکن چاغی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ میں مسلم لیگ نواز کی جانب سے اس دن کو یوم تکبیر کے طور پر منایا جا رہا ہے جماعت کے صوبائی صدر سردار یعقوب ناصر کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں سے ملک کو ناقابل تسخیر بنا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد