BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایٹمی انرجی کمیشن کےاہلکار بازیاب

اغوا کرنے والے ملزمان
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع کرک میں پولیس نے ایک آپریشن میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چھ اغوا شدہ اہلکاروں کو بازیاب کرا لیا ہے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار سمیت تین اغواء کار ہلاک ہوئے ہیں۔

ضلع کرک کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مبارک زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ان اہلکاروں کواتوار کی شب تحصیل بانڈہ داؤد شاہ میں اپنے ریسرچ سینٹر سے مسلح نقاب پوشوں نے اغواء کیا تھا ۔انہوں نے کہاکہ ’اغواکاروں نے چھ اہلکاروں کو اسلحے کی زور پر اغوا کیا جبکہ ایک اہلکار فرار ہونے میں کامیاب ہوا جنہوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کی اور اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔ مبارک زیب کے بقول ’پولیس نے اغوا کاروں کو واردات کی جگہ سے تقریباً تیس کلومیٹر دور گرگری کی مقام پر گھیر لیا۔ پہلی گاڑی میں سوار اغوا کار بھاگنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ باقی تین گاڑیوں میں سوار اغوا کاروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا‘۔

پولیس کے ساتھ مقابلے میں تین اغوا کار ہلاک، ایک زخمی اور ایک زندہ گرفتار ہواہے جبکہ ایک پولیس اہلکار نعمت اللہ کی بھی ہلاکت ہوئی۔ مبارک زیب کا کہنا ہے کہ چھ اہلکاروں کی صحیح سلامت بازیابی کے علاوہ ان کی تینوں گاڑیاں بر آمد کر لی گئی ہیں۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کےبازیاب ہونیوالے اہلکاروں میں تین ماہرینِ ارضیات، دو چوکیدار اور ایک باورچی شامل ہے۔

پولیس آفیسر نے بتایا کہ گرفتار شخص نے ابتدائی تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ انہوں نے یہ واردات اغوا برائے تاوان کے لیے کی۔ زخمی یعقوب خان کا تعلق شمالی وزیرستان اور گرفتار شیرزمان کا ضلع ہنگو سے بتایا جاتا ہے۔ زخمی یعقوب خان بانڈہ داؤد شاہ کے مقامی ہسپتال میں اب بھی بے ہوش ہے۔

کوہاٹ کے ایک مقامی صحافی عبدالسمیع پراچہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک شدہ اغوا کاروں میں سے دو کا تعلق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے بتایا جاتا ہے جن کےحلیے مقامی طالبان جیسے تھے لیکن ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا یہ کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ ضلع کرک کے اس علاقے میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے یہ تحقیقی مرکز چند سال قبل قائم کیا تھا۔

اسی بارے میں
سات ارب ڈالر کا ایٹم بم
05 February, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد