’جوہری ادارے کا انجنیئر کہاں ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ نے پاکستان حکومت سے جوہری ادارے میں کام کرنے والے ایک انجنیئر عتیق الرحمٰن کی پراسرار حراست کے بارے میں دو جون کو جواب طلب کرلیا ہے۔ صوبہ سرحد کے ضلع ایبٹ آباد کے رہائشی صدیق الرحمٰن نے ایڈووکیٹ اکرام چودھری کی معرفت لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اہلکار دو برس قبل اٹھا کر لے گئے تھے اور تاحال انہیں رہا نہیں کیا۔ ایڈووکیٹ اکرام چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ جسٹس عبدالشکور پراچہ نے وزارت داخلہ اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو انتیس مئی کو جاری کردہ نوٹس میں جواب طلبی کی ہے۔ زیر حراست عتیق الرحمٰن کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ جب جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف کارروائی ہوئی ہے اُسی عرصے میں عتیق الرحمٰن کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ انہیں کس الزام کے تحت دو برس سے زیر حراست رکھا گیا ہے۔ جوہری کمیشن کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عتیق الرحمٰن کمیشن سے اپنی شادی کے لیے چھٹی لے کر گئے تھے اور تاحال واپس نہیں آئے۔ ان کے مطابق عتیق الرحمٰن کے خلاف جوہری کمیشن نے کسی بھی حکومتی ادارے کو کوئی شکایت نہیں کی اور نہ ہی ان کے کام پر کمیشن کو کوئی اعتراض ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عتیق الرحمٰن کے والد سابقہ چیئرمین پرویز بٹ سے بھی ملے تھے اور اس کے بعد انہوں نے رابطہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق جوہری کمیشن کو عدالت میں دائر کردہ پٹیشن میں فریق بھی نہیں بنایا گیا۔ چودھری اکرام کہتے ہیں کہ اگر عتیق الرحمٰن اتنے اہم عہدے پر نہیں تھے تو انہیں دو برس سے کیوں حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی اپنے اہل خانہ سے کیوں ملاقات نہیں کروائی جارہی۔ وکیل نے بتایا کہ زیر حراست شخص کے والد صدیق الرحمٰن نے انہیں بیان حلفی دیا ہے جس کے مطابق خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکار نے انہیں کہتے رہے ہیں کہ عتیق الرحمٰن خیریت سے اسلام آباد ہیں۔ واضح رہے کہ سن دوہزار چار میں جب جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کا اقرار کیا تھا اس وقت ان کی جوہری لیبارٹری کے گیارہ ملازمین کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے دس تو رہا کردیے گئے تھے جبکہ ایک سینیئر عہدیدار ڈاکٹر فاروق کو حراستی مرکز میں دو بار دل کا دورہ پڑنے کے بعد حال ہی میں انہیں اپنے گھر منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں وہ سیکورٹی کے سخت پہرے میں ہیں۔ | اسی بارے میں ایٹمی پھیلاؤ روکنے کےلئے نیا قانون05 May, 2004 | پاکستان جوہری سائنسدان: حراست میں توسیع24 October, 2004 | پاکستان ’قدیرکو سی آئی اے نے بچایا تھا‘09 August, 2005 | پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کے راز صیغۂ راز میں26 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||