BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 May, 2008, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قائد حزب اختلاف کا کمرہ بند

دروازے کا ہینڈل
دروازے کو نہ صرف چابی سے بند کیا ہوا ہے بلکہ ہینڈل کے اوپر کپڑا بھی بانھ دیا گیا ہے
بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر کو سِیل کر دیا گیا ہے جبکہ حزب اختلاف کے اراکین کے لیے مختص کمرے کو تمام اراکین کے سستانے کا کمرہ قرار دے دیا گیا ہے۔

بلوچستان میں حکومت سازی کے بعد آج اسمبلی کا پہلا اجلاس تھا اور آج بیشتر اراکین اپنے لیے کمروں کا مطالبہ کرتے رہے۔ ان میں خواتین اراکین اسمبلی اور بلوچستان نینشل پارٹی عوامی کے پارلیمانی لیڈر سید احسان شاہ نمایاں تھے۔ ان اراکین کا مطالبہ تھا کہ کم از کم تمام پارلیمانی لیڈرز کو ایک ایک کمرہ ضرور دیا جائے۔

بلوچستان اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کے کمرے کو صرف تالا نہیں لگایا گیا بلکہ باقاعدہ طور پر سِیل کر دیا گیا ہے۔ تالے کے اوپر سفید کپڑے سے سیل کے نشان لگائے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی اس کمرے کو کھول نے سکے۔ قائد حزب اختلاف کے کمرے کے ساتھ اپوزیشن ارکان کے کمرے کو اب تمام اراکین کے سستانے کا کمرہ یعنی ممبرز ریٹائرنگ روم قرار دے دیا گیا ہے۔

 بلوچستان اسمبلی میں اس وقت تک حزب اختلاف میں واحد رکن سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند ہیں لیکن انھوں نے آج اجلاس مں شرکت نہیں کی ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ شائد وہ اسمبلی کے اجلاس میں کم ہی شرکت کریں۔ سردار یار محمد رند اور بلوچستان کے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی کے مابین قبائلی تنازعات کافی عرصہ سے چلے آ رہے ہیں اور دونوں جانب سے کئی افراد قتل ہو چکے ہیں۔

اس بارے میں بلوچستان اسمبلی کے سپیکر اسلم بھوتانی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اب تک فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کون ہوگا اور جب فیصلہ ہو جائے گا تو کمرہ بھی کھول دیا جائے گا۔

بلوچستان اسمبلی میں اس وقت تک حزب اختلاف میں واحد رکن سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند ہیں لیکن انھوں نے آج اجلاس مں شرکت نہیں کی ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ شائد وہ اسمبلی کے اجلاس میں کم ہی شرکت کریں۔ سردار یار محمد رند اور بلوچستان کے وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی کے مابین قبائلی تنازعات کافی عرصہ سے چلے آ رہے ہیں اور دونوں جانب سے کئی افراد قتل ہو چکے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں اس وقت باسٹھ اراکین کے ایوان میں وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی کو اکسٹھ اراکین کی حمایت حاصل ہے

کسی بھی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کمرہ صحافیوں کے لیے خبروں کے حصول کے لیے اہم مقام سمجھا جاتا ہے جہاں حکومت کی پالسیوں اور فیصلوں کے خلاف اکثر اوقات صحافیوں کو اچھی خبریں مل جایا کرتی ہیں لیکن بلوچستان اسمبلی میں صحافیوں کو اب حزب اختلاف کی سرگرمیوں کی خبریں میسر نہیں ہوں گی۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی اسلم بھوتانی نے یو ایس ایڈ کے تعاون سے اسمبلی میں ایک میڈیا سنٹر قائم کر دیا ہے جس میں کمپیوٹر، فیکس، انٹرنیٹ، ٹیلیفون اور فوٹو سٹیٹ مشین کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔

رئیسانیمذاکرات کی اپیل
اسٹیبلشمنٹ روڑے اٹکا رہی ہے: نواب رئیسانی
بلوچستان اسمبلی
سو سے زیادہ قرار دادیں منظور، عمل درآمد ندارد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد