بلوچستان: وزراء اکتالیس ہو گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان حکومت کی کابینہ میں تین مزید وزراء نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا ہے جس کے بعد کابینہ کی تعداد اکتالیس ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ تیرہ وزراء کو پہلے اور بارہ کو آج محکمے دے دیے گئے ہیں۔ پندرہ وزراء کو محکمے دینا باقی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں وزیر زیادہ اور محکمے کم پڑ گئے ہیں۔ آج حلف اٹھانے والے اراکین میں مسلم لیگ نواز کے کیپٹن عبدالخالق اچکزئی، قاف لیگ کے سردار مسعود لونی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد امین عمرانی شامل ہیں۔ ان اراکین کے حلف اٹھانے کے بعد بلوچستان میں اس وقت باسٹھ اراکین کے ایوان میں اکتالیس وزیر ہو گئے ہیں جبکہ دو خواتین کو مشیر لیا گیا ہے۔ یہ حالیہ انتخابات کے بعد چاروں صوبوں اور وفاق میں قائم ہونے والی حکومتوں میں سب سے بڑی کابینہ ہے۔
اب تک صرف چھبیس وزراء کو محکمے دے دیے گئے ہیں جبکہ دیگر کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ محکموں کے حصول کے لیے اراکین میں اختلافات پائے جاتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہر وزیر کی کوشش ہے کہ وہ اہم ترین وزارت حاصل کرے اور دوسرا یہ کہ اس وقت محکمے کم اور وزیر زیادہ ہیں۔ بلوچستان اس وقت مالی بحران کا شکار ہے اور سرکاری زرائع کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً تئیس ارب روپے کا اوور ڈرافٹ سٹیٹ بینک سے لیا گیا ہے جس پر ماہانہ کوئی پچیس کروڑ روپے تک بینک کو سود دیا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے مطابق صوبے کو درپیش مالی بحران ایک بڑا مسئلہ ضرور ہے لیکن بڑی کابینہ سے صوبے کی مالی صورتحال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ بقول ان کے اس صوبے نے پانچ فوجی آپریشن برداشت کیے ہیں مالی مشکلات کیا چیز ہیں۔ | اسی بارے میں سندھ کابینہ کا غیرمعمولی اجلاس 13 April, 2008 | پاکستان کوئٹہ: کابینہ کی تشکیل میں مشکل18 April, 2008 | پاکستان 14 رکنی پنجاب کابینہ نے حلف اٹھایا22 April, 2008 | پاکستان سرحد: کابینہ میں پانچ مزید وزراء23 April, 2008 | پاکستان سرحد کابینہ کی حلف برداری02 April, 2008 | پاکستان پہلے مرحلے میں سب سے بڑی کابینہ31 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||