BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 April, 2008, 18:07 GMT 23:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: وزراء اکتالیس ہو گئے

وزیر اعلیٰ بلوچستان
صوبے کو درپیش مالی بحران ایک بڑا مسئلہ ضرور ہے لیکن بڑی کابینہ سے صوبے کی مالی صورتحال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا:وزیر اعلیٰ
بلوچستان حکومت کی کابینہ میں تین مزید وزراء نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا ہے جس کے بعد کابینہ کی تعداد اکتالیس ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ تیرہ وزراء کو پہلے اور بارہ کو آج محکمے دے دیے گئے ہیں۔ پندرہ وزراء کو محکمے دینا باقی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں وزیر زیادہ اور محکمے کم پڑ گئے ہیں۔

آج حلف اٹھانے والے اراکین میں مسلم لیگ نواز کے کیپٹن عبدالخالق اچکزئی، قاف لیگ کے سردار مسعود لونی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد امین عمرانی شامل ہیں۔ ان اراکین کے حلف اٹھانے کے بعد بلوچستان میں اس وقت باسٹھ اراکین کے ایوان میں اکتالیس وزیر ہو گئے ہیں جبکہ دو خواتین کو مشیر لیا گیا ہے۔ یہ حالیہ انتخابات کے بعد چاروں صوبوں اور وفاق میں قائم ہونے والی حکومتوں میں سب سے بڑی کابینہ ہے۔

اختلافات
ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ محکموں کے حصول کے لیے اراکین میں اختلافات پائے جاتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہر وزیر کی کوشش ہے کہ وہ اہم ترین وزارت حاصل کرے اور دوسرا یہ کہ اس وقت محکمے کم اور وزیر زیادہ ہیں
اسلم رئیسانی
پہلے مرحلے میں اڑتیس وزیر لیے گئے ہیں جبکہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اس سے علیحدہ ہیں۔ سپیکر کا تعلق مسلم لیگ قائداعظم اور ڈپٹی سپیکر کا تعلق جمعیت علماءاسلام فضل الرحمان گروپ سے ہے۔ وزراء میں پیپلز پارٹی کو آٹھ اور جمعیت علماء اسلام (ف) کو چھ وزارتیں دی گئی ہیں جن میں سینیئر وزیر منصوبہ بندی و ترقیات مولانا عبدالواسع شامل ہیں۔ قاف لیگ کو ہم خیال اراکین سمیت دس، بلوچستان نینشل پارٹی (عوامی) کو پانچ عوامی نیشنل پارٹی کو دو، آزاد چھ، نیشنل پارٹی پارلیمینٹیرین اور جمعیت نظریاتی گروپ کو ایک ایک وزارت دی گئی ہے۔

اب تک صرف چھبیس وزراء کو محکمے دے دیے گئے ہیں جبکہ دیگر کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ محکموں کے حصول کے لیے اراکین میں اختلافات پائے جاتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہر وزیر کی کوشش ہے کہ وہ اہم ترین وزارت حاصل کرے اور دوسرا یہ کہ اس وقت محکمے کم اور وزیر زیادہ ہیں۔

بلوچستان اس وقت مالی بحران کا شکار ہے اور سرکاری زرائع کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً تئیس ارب روپے کا اوور ڈرافٹ سٹیٹ بینک سے لیا گیا ہے جس پر ماہانہ کوئی پچیس کروڑ روپے تک بینک کو سود دیا جاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے مطابق صوبے کو درپیش مالی بحران ایک بڑا مسئلہ ضرور ہے لیکن بڑی کابینہ سے صوبے کی مالی صورتحال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ بقول ان کے اس صوبے نے پانچ فوجی آپریشن برداشت کیے ہیں مالی مشکلات کیا چیز ہیں۔

اسی بارے میں
سرحد کابینہ کی حلف برداری
02 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد