پہلے مرحلے میں سب سے بڑی کابینہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) پر مشتمل حکمران اتحاد کے چوبیس ارکان پر مشتمل وفاقی کابینہ نے سوموار کے روز حلف اٹھایا۔ اس کابینہ کو پاکستان کی پارلیمانی اور جمہوری تاریخ میں پہلے مرحلے میں حلف اٹھانے والی سب سے بڑی کابینہ کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ ضیاالحق دور کے بعد کی جمہوری تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ماضی میں وزرائے اعظم نے پہلے مرحلے میں کابینہ میں زیادہ وزراء شامل نہیں کیے لیکن کابینہ میں بعد میں نمایاں اضافہ کر جاتا رہا۔ بینظیر بھٹو نے دو دسمبر انیس سو اٹھاسی کو وزیراعظم کا حلف لیا۔ بینظیر کے پہلے دور اقتدار میں بائیس وفاقی وزراء اور ستائیس وزراء مملکت شامل تھے لیکن پہلے مرحلے میں (دسمبر انیس سو اٹھاسی کو) صرف دس وفاقی وزراء اور سات وزراء مملکت نے چار حلف اٹھایا تھا۔
نواز شریف نے چھ نومبر انیس سو نوے کو بطور وزیراعظم حلف اٹھایا۔ ان کی کابینہ میں انتیس وفاقی وزراء اور اٹھارہ وزراء مملکت شامل تھے لیکن وفاقی کابینہ کی تشکیل کے پہلے مرحلے میں نواز شریف نے صرف اٹھارہ وفاقی وزراء کو شامل کیا۔ اس کے بعد بینظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں انیس اکتوبر انیس سو ترانوے میں وزیراعظم کا حلف اٹھایا اور اسی ہی روز چھ وفاقی وزراء اور ایک وزیر مملکت نے پہلے مرحلے میں حلف اٹھایا۔ بینظیر بھٹو کے اس دور حکومت میں وفاقی وزراء کی کُل تعداد چھبیس جبکہ وزراء مملکت کی کل تعداد تیرہ تھی۔ میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے سترہ فروری انیس سو ستانوے کو وزارت عظمٰی کا حلف اٹھایا۔ انہوں نے پہلے مرحلے میں پچیس فروری کو چھ وفاقی وزراء اور ایک وزیر مملکت کو کابینہ میں شامل کیا۔ میاں نواز شریف کے اس دور حکومت میں وفاقی وزراء کی کل تعداد انیس تھی جبکہ وزراء مملکت کی تعداد پانچ تھی۔ سنہ دو ہزار دو میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کی حکومت بنی اور کابینہ کی تشکیل کے پہلے مرحلے میں چودہ وفاقی وزراء شامل کیے گئے اور سات وزراء مملکت کو شامل کیا گیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومتوں کی کابینہ ہمیشہ ہی بڑی رہی ہیں کیونکہ ان تمام جماعتوں کو وزارتیں دے کر راضی رکھا جاتا ہے اور اس طرح حکومت چلائی جاتی ہے۔ مبصرین کی یہ بات درست نظر آتی ہے کیونکہ انیس سو اٹھاسی میں بینظیر کی پہلی حکومت میں وفاقی وزراء اور وزراء مملکت کی کل تعداد ا انچاس تھی۔ ان کے دوسرے دور حکومت میں یہی کل تعداد انتالیس تھی۔ اسی طرح نواز شریف کے پہلے دور اقتدار میں وفاقی وزراء اور وزرائےمملکت کی کُل تعداد سینتالیس تھی لیکن نواز شریف کے دوسرے دور حکومت جس میں ان کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی، وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی کل تعداد چوبیس تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دو ہزار دو کی حکومت کوئی معیار نہیں ہے کیونکہ وہ ایک ایسی حکومت تھی جس میں وزارتیں وفاقی وزیر، وزیر مملکت اور مشیر کی صورت میں زکوٰۃ کی طرح بانٹیں گئیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جس طرح مشاورت کے ساتھ اور بہت سوچ سمجھ کر پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) نے کابینہ کا اعلان کیا ہے اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ کابینہ کی تعداد کو جتنا محدود کیا جا سکتا ہے، کریں گے۔ |
اسی بارے میں کل کے مجرم، آج کے وزیر31 March, 2008 | پاکستان ممکنہ وزراء کے ناموں کا اعلان30 March, 2008 | پاکستان کابینہ کا اعلان، اعتماد کے بعد28 March, 2008 | پاکستان اعتماد کاووٹ ہفتےکو لیں گے26 March, 2008 | پاکستان مرکز: وزارتوں کی تقسیم پر اتفاق18 March, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||