کوئٹہ: کابینہ کی تشکیل میں مشکل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں اگرچہ وزیراعلٰی نواب اسلم رئیسانی کو برائے نام اپوزیشن کا سامنا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ(ق) کی جانب سے حمایت کے بعد انہیں کابینہ کی تشکیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں اس وقت باسٹھ اراکین ہیں جن میں قاف لیگ کے بیس میں سے انیس نے نواب اسلم رئیسانی کی حمایت کا اعلان کیا ہے اس کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کے دس، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سات، عوامی نیشنل پارٹی کے تین، نیشنل پارٹی پارلیمینٹیرین کے ایک اور نو آزاد اراکین نے بھی نواب اسلم رئیسانی کی حمایت کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے بارہ اراکین ہیں جبکہ ایک آزاد رکن مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کی ہے۔ کابینہ کی تشکیل میں تمام سیاسی جماعتوں کو ان کی من پسند وزارتوں کے ساتھ راضی کرنا وزیراعلٰی کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہے اور اس تقسیم میں ایک آدھ سیاسی جماعت یا کچھ اراکین ناراض ہو سکتے ہیں۔ وزیراعلٰی نے جمعرات کو بھی کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کی کابینہ بڑی ہوگی اور ان کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ’ایک بڑی کابینہ بلوچستان حکومت پر بوجھ نہیں ہوگی کیونکہ بلوچستان نے پانچ فوجی آپریشن برداشت کر لیے ہیں تو بڑی کابینہ کیا معنی رکھتی ہے‘۔ ادھر آزاد اراکین کی جانب سے کابینہ کی تشکیل کے لیے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں سید خورشید شاہ اعجاز جاکھرانی اور میر باز کھیتران کی کوئٹہ آمد پر اعتراض کے بعد یہ رہنما واپس اسلام آباد چلے گئے ہیں۔ کوئٹہ سے روانگی سے قبل صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ ’ کابینہ کے ارکان کی تعداد اور وزراء کے عہدوں کے بارے میں اعلان وزیرِاعلٰی ہی کریں گے‘۔
آزاد اراکین کے رہنما سردار اسلم بزنجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بلوچستان کے اراکین نے کبھی سندھ کی حکومت سازی میں مداخلت کی ہے کہ سندھ سے لوگ یہاں آ کر انہیں مشورے دیتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلٰی کو بااختیار ہونا چاہیے اور وہ جو فیصلہ کرتے ہیں انہیں منظور ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان لوگوں کو وزیر بنایا جاتا ہے جو بلوچستان کے آپریشن میں شامل تھے تو وہ وزارت نہیں لیں گے۔ ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں اراکین قاف لیگ اور خاص طور پر سابق وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی کی حکومت میں شمولیت پر ناراض ہیں۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعلٰی اسلم ریئسانی نے اس بارے میں گورنر کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے اسلم رئیسانی کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے بھی وزیراعلٰی کو مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو اس وقت باسٹھ ارکان کے ایوان میں اکسٹھ اراکین کی حمات حاصل ہے جن میں نو آزاد اراکین بھی شامل ہیں۔ سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند اس وقت تک حزب اختلاف کے واحد رکن ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ’باقی ساتھی جلد ان کے ساتھ ہوں گے کابینہ کا اعلان ہونے دیں‘۔ | اسی بارے میں بلوچستان: نئے وزیراعلیٰ کے مطالبے09 April, 2008 | پاکستان مینگل کی رہائی کے لیے پہیہ جام11 April, 2008 | پاکستان کوئٹہ:سپیکر،ڈپٹی نےحلف اٹھالیا08 April, 2008 | پاکستان اسلم رئیسانی نے حلف اٹھا لیا09 April, 2008 | پاکستان ’اسٹیبلشمنٹ روڑے اٹکا رہی ہے‘16 April, 2008 | پاکستان ’الیکشن: مواقع یکساں نہیں تھے‘ 16 April, 2008 | پاکستان ضمنی انتخابات: تاریخ میں تبدیلی17 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||