’الیکشن: مواقع یکساں نہیں تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کی بطور مبصر نگرانی کرنے والے یورپی یونین کے وفد نے کہا ہے کہ انتخابات کے دوران اُمیدواروں کو یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے اور سابق حکمراں جماعت نے اس دوران سرکاری وسائل کا استعمال کیا۔ یورپی یونین کے انتخابی مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات کے دوران حالات تسلی بخش نہیں تھے تاہم اس کے باوجود ان انتخابات کے دوران سول سوسائٹی نے اہم کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ یورپی یونین کا انتخابی مشن حکومت کی دعوت پر پاکستان آیا اور وہ یہاں پر تین ماہ تک رہے اور انتخابات کے دوران اس مشن کے ایک سو اکتیس مبصرین کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ مائیکل گہلر نے کہا کہ ان انتحابات کے دوران یورپی یونین کے متعدد ملکوں کے مبصرین پاکستان میں موجود تھے اور وہ صرف پینسٹھ فیصد انتخابات کی کوریج کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان کے صرف تین انتخابی حلقوں میں جا سکے۔ مائیکل گہلر نے کہا کچھ حلقوں کا حوالہ دیا جہاں پر ووٹ ڈالنے کا تناسب ایک سو فیصد سے بھی زائد تھا اور وہاں پر سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ قاف کے اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمیشنر کا انتخاب تمام سیاسی جماعتوں کی مشاروت سے ہونا چاہیے تاکہ الیکشن کمیشن کے جانبدار ہونے کے الزامات نہ لگ سکیں۔ مائیکل گہلر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں وفاق کے زیر کنٹرول قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنا چاہتی ہیں لیکن انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کا انتخابی کمیشن یہ تجویز کرتا ہے کہ مستقبل میں قبائلی علاقوں میں نہ صرف سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی جائے بلکہ خواتین کو انتخابی عمل میں بھر پور حصہ لینے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احمدیوں کو بھی علیحدہ لسٹ میں رکھنے کی بجائے ایک ہی انتخابی لسٹ میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستانی آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوتی جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ انتحابی مشن کے سربراہ نے کہا کہ سنہ دو ہزار دو میں پاکستان میں جو انتخابات ہوئے تھے اُس دوران یورپی یونین نے کچھ تجاویز دی تھیں لیکن ان پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا۔
مائیکل گہلر نے کہا کہ ان انتخابات کے دوران سرکاری میڈیا نے سابق حکمرانوں کو زیادہ کوریج دی جبکہ نجی ٹی وی چینلز نے دوسری سیاسی جماعتوں کے اُمیدواروں کو بھی کوریج دی۔ انہوں نے کہا کہ ْاگرچہ فروری 2008 کے انتخابات مسابقتی تھے اور نتائج کو قبول کیا گیا،لیکن پاکستان میں انتخابات کے ڈھانچےاور صورت حال میں مستقل مسائل موجود ہیں۔اگر انہیں حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں انتخابی مسائل پیدا ہونے کا سنگین خدشہ ہے۔لہٰذا پاکستانی حکام، سیاسی جماعتیں اور شہری معاشرے کے افراد انتخابی اصلاحات سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ.ایک خود مختار عدلیہ کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں جس پر متعلقہ افراد کو اعتماد ہو تاکہ انتخابی عمل کی مؤثر نگرانی کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ.الیکشن کمیشن آف پاکستان کو درست اور مکمل انتخابی فہرست تیار کرنی چاہیے اور .تمام پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج حلقے اور انٹرنیٹ پر فوری آویزاں کیے جائیں۔ مائیکل گہلر نے کہا کہ.اگر رجسٹریشن اور یا ووٹ ڈالنے کے لیے صرف کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈوں کی اجازت ہو تو کمپیٹرائزڈ شناختی کارڈوں کے حصول میں آسانی پیدا کی جاۓ تاکہ شرکت کی راہ میں کوئی چیز حائل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی سرکرمیوں کو باضابطہ کرنے کے والے قانونی ڈھانچے کی اصلاح کی جائے اور اس میں پابندیاں کم کی جائیں اور ذرائع ابلاغ کے کام کرنے کا طریقہ واضح کیا جائے۔ مشن کے سربراہ نے کہا کہ وہ ایک سال کے عرصے میں واپس آئیں گے اور انہیں امید ہے کہ مشن کی طرف سے دی جانے والی سفارشات پر غیر معمولی پیشرفت ہوگی۔ | اسی بارے میں مبصرین کو ویزے کی یقین دہانی01 December, 2007 | پاکستان قومی انتخابات کے ’بلدیاتی‘ امیدوار08 December, 2007 | پاکستان انتخاب لڑنے کی دوڑ میں بریکیں04 December, 2007 | پاکستان مقاصد پورے ہو گئے: مشرف15 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||