مقاصد پورے ہو گئے: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک سے ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد پاکستان کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ ملک میں کسی کو ہنگامہ آرائی کی سیاست کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سرکاری ٹی وی پر قوم سے اپنے خطاب میں صدر مشرف نے کہا کہ جن مقاصد کے حصول کے لیے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی تھی وہ پورے ہو گئے ہیں اور اس لیے اب ملک سے ایمرجنسی ختم کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قوم اور دنیا سے وعدہ کرتے ہیں کہ آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوں گے۔ انہوں نے کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں ہنگامہ آرائی کی سیاست سے گریز کریں۔ صدر پرویز مشرف نے اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔ صدر مشرف نے کہا کہ ایمرجنسی کے تحت کیے گئے اقدمات سے ملک میں جمہوری عمل پٹڑی پر چڑھ گیا ہے، ملک کے تین ستونوں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ میں ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ کو ایک ضابطۂ اخلاق کے تحت ذمہ دار بنایا گیا ہے اور ان حالات میں انہیں آئین کی بحالی کا فیصلہ کرنے میں کوئی عار نہیں۔ اس سے قبل صدر مشرف نے سنیچر کی صبح ایک صدارتی فرمان جاری کر کے ملک میں نافذ ایمرجنسی ہٹانے اور آئین کی بحالی کا اعلان کیا۔ صدر پرویز مشرف نے جو فرمان جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ تین نومبر سے پندرہ دسمبر تک ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی سمیت جو بھی احکامات جاری کیے ہیں انہیں آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ فرمان کے مطابق ایمرجنسی کے دوران جو بھی احکامات جاری کیےگئے چاہے وہ ججوں کا ’پی سی او‘ کے تحت حلف، اسلام آْباد میں ہائی کورٹ کا قیام، ججوں کی برطرفی اور ان کی پینشن اور مراعات کے قوانین یا آئین میں کی گئی ترامیم، ان کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ پندرہ دسمبر سے ایمرجنسی اٹھانے اور آئین بحال کرنے کے فرمان میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابات شیڈول کے مطابق (آٹھ جنوری) ہوں گے اور انتخابات کے بعد جس دن صدر پرویز مشرف مناسب سمجھیں گے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کا پہلا اجلاس طلب کریں گے۔ فرمان کے تحت یہ بھی صدر کی صوابدید پر ہوگا کہ وہ کس روز سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے اجلاس بلاتے ہیں۔
صدارتی فرمان میں کہا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں جب بھی ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی کے حوالے سے کبھی کوئی پیچیدگی پیدا ہو تو صدر اُسے دور کر سکتا ہے۔ سنیچر کے روز ایمرجنسی اٹھانے کے باوجود ’پی سی او‘ کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت متعدد جج بحال نہیں کیے گئے ہیں، نہ ہی ذرائع ابلاغ پر پابندیاں ختم کی گئیں ہیں۔ بیشتر برطرف کردہ جج اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم کا کہنا ہے کہ آئین کی بحالی کے بعد اب معطل کردہ بنیادی حقوق بحال ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق گرفتار وکلاء، سیاسی کارکن ، عام شہری اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے و مالکان عدالتوں میں اپنی گرفتاریوں اور پابندیوں کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر مشرف نے بطور آرمی چیف تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے، آئین معطل کرنے اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے احکامات جاری کیے تھے۔ انہوں نے اکتالیس روز قبل یہ احکامات جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ، سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز سمیت اعلیٰ عدالتوں کے متعدد ججوں کو فارغ کر دیا تھا۔ ججوں کا نیا حلف بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے شہزاد ملک نے بتایا ہے کہ ایوانِ صدر میں ہونے والی ایک تقریب میں صدر نے پہلے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے آئین کے تحت حلف لیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے بارہ ججوں سے حلف لیا۔ سپریم کورٹ کے جن ججوں نے حلف لیا ان میں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر،جسٹس سید سعید اشہد، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس محمد قائم جان، جسٹس محمد موسی کے لغاری،جسٹس اختر شبیر،جسٹس اعجاز یوسف، جسٹس ضیاء پرویز، جسٹس میاں حامد فاروق، جسٹس سید حسین بخاری اور سید زوار حسین جعفری شامل ہیں۔ اس کے بعد صدر پرویز مشرف نے فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس حاذق الخیری اور فیڈ رل شریعت کورٹ کے تین ججوں جن میں ظفر یاسر، صلاح الدین مرزا اور ڈاکٹر فدا محمد خان سے حلف لیا۔ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں گورنروں نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے حلف لیا جبکہ بعد ازاں چیف جسٹس صاحبان نے ہائی کورٹ کے دیگر ججوں سے حلف لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||