BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 April, 2008, 11:04 GMT 16:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان پر اے پی سی بلانے کا فیصلہ

زرداری
’بلوچستان والوں کی محرومیاں اور شکایات دور کرنا انتہائی ضروری ہے‘
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری نے بلوچستان میں امن کے قیام، شکایات دور کرنے اور صوبے کو قومی دھارے میں لانے کے موضوع پر کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کے لیے ایک مصالحتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

آصف علی زرداری خود اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ اس کے اراکین میں پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر، جماعت کے بلوچستان میں سربراہ لشکری رئیسانی، رکن قومی اسمبلی اعجاز جھکرانی، سینیٹر بابر اعوان اور پارٹی کے بلوچستان میں نائب جنرل سیکرٹری سعداللہ شامل ہیں۔

یہ مصالحتی کمیٹی دیگر سیاسی جماعتوں اور فریقین سے کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے لیے رابطے کرے گی تاکہ صوبے میں حالات کو معمول پر لایا جا سکے۔

اس کانفرنس کے لیے کسی تاریخ کا ابھی تعین نہیں کیا گیا ہے تاہم پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے انعقاد کا تعین تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد آئندہ دس روز میں کر دیا جائے گا۔

اس حوالے سے ایک بیان میں آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کی محرومیاں اور شکایات دور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اس بابت پہلا قدم ان سے ماضی میں کی جانے والی زیادتیوں پر معذرت سے اٹھایا تھا تاہم’صرف معافی کافی نہیں اور اس جذبے کو ٹھوس اقدامات کی شکل دینا انتہائی ضروری ہے‘۔

حکومت کو بلوچ قوم پرست شدت پسندوں کی جانب سے ابھی تک مثبت جواب نہیں ملا ہے

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں وفاق کو بچانے کی کوشش میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو صوبائی خود مختاری، سیاسی کارکنوں کی گمشدگی، غربت، شدت پسندی میں اضافہ اور بڑے منصوبوں پر مقامی آبادی کے تحفظات دورے کیے بغیر عملدرآمد جیسے مسائل کا سامنا ہے اور ’ہمیں ان مسائل کے حل کے لیے جلد از جلد قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا‘۔

بلوچستان کے نئے وزیرِاعلٰی کی جانب سے بلوچ قوم پرست شدت پسندوں کو کی جانے والی مذاکرات کی پیشکش کا ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں آیا ہے اور کئی کالعدم شدت پسند تنظیمیں اب صرف آزادی کی بات کر رہی ہیں۔ ایسے میں کل جماعتی کانفرنس اس تعطل کو دور کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
ڈیرہ بگٹی دھماکہ: دو ہلاک
18 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد