دھماکے، سرچ آپریشن، گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر مستونگ میں ایک زور دار دھماکے سے بجلی کا ٹاور مرمت کرنے والا واپڈا کا ایک ملازم ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں جبکہ خضدار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ واپڈا کے ملازمین آج صبح سے شہر کے قریب پشکرم کے علاقے میں بجلی کا ایک ٹاور کی مرمت کر رہے تھے کہ شام کے وقت ایک زور دار دھماکہ ہوا ہے جس سے واپڈا کا ایک ملازم ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق اس ٹاور کو کچھ روز پہلے دھماکے سے اڑایا گیا تھا۔ مستونگ میں ایک ہفتہ پہلے بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا جب واپڈا کے ملازمین ٹاور مرمت کرنے گئے تو اس وقت دھماکہ ہوا تھا لکن اس میں کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا۔ ادھر خضدار شہر میں مشکے روڈ پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے راشد بٹ نامی شخص کو ہلاک جبکہ ایک ہندو راجیش کو زخمی کر دیا ہے۔ راشد بٹ کا تعلق پنجاب سے بتایا گیا ہے۔ یاد رہے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ کوہلو کے قریب میوند میں دو دھماکے ہوئے ہیں۔ ایک دھماکہ بجلی کے کھمبے کے پاس ہوا ہے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ دوسری طرف بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی اور کاہان میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے جہاں اب تک پچاس سے زیادہ افراد کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں لیکن سرکاری سطح پراس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ کوہلو کی تحصل کاہان سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ آج صبح ساٹھ گاڑیوں پر سوار سکیورٹی فورسز کے اہلکار بارکھان کے راستے نساؤ اور جبر کے علاقے میں پہنچے ہیں جہاں گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق مکانات اور فصلوں کو آگ لگائی گئی ہے اور خواتین اور بچوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ لوگوں نے بتایا ہے کہ اس سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس پر سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے۔ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ سیکیورٹی فورسز ک فائرنگ سے تین خواتین اور دو بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کے علاقے سنگسیلہ ٹوبہ نوکانی میں مکانات اور چھوپڑیوں کو آگ لگائی گئی ہے اور گرفتار افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ یاد رہے ان علاقوں میں گزشتہ دنوں سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے تھے جس میں فورسز کا جانی نقصان ہوا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کی گئی قرار داد میں وفاق حکومت سے سفارش کی ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے اس کے علاوہ نومنتخب وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی اور گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے بھی حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔ یاد رہے کالعدم تنظیموں جیسے بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمانوں نے حکومت کی جانب سے مسلح افراد نے مذاکرات شروع کرنے کو مسترد کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں بلوچستان: نئے وزیراعلیٰ کے مطالبے09 April, 2008 | پاکستان چیف آف سراوان سےوزیراعلیٰ تک09 April, 2008 | پاکستان صفدر سرکی جیل سےہسپتال منتقل11 April, 2008 | پاکستان بلوچستان: دھماکوں میں گیارہ زخمی12 April, 2008 | پاکستان انسداد دہشتگردی: پالیسی بنا رہے ہیں‘07 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||