BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 April, 2008, 14:45 GMT 19:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسداد دہشتگردی: پالیسی بنا رہے ہیں‘

جیکی سمتھ اور شاہ محمود قریشی
’پاکستان بھی دہشتگردی کا شکار ہے‘
پاکستان نے برطانیہ پر واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نمٹنے کےلیے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کرے گا۔

یہ بات وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں برطانوی وزیرداخلہ جیکی سمتھ سے ملاقات میں کی ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ جیکی سمتھ دو روزہ دورے پر آج صبح اسلام آباد پہنچی ہیں۔ پاکستان میں حکومت سازی کے بعد یہ کسی اعلٰی برطانوی اہلکار کا پہلا دورہ ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے حکومت سازی کے دوران ہی پاکستان میں تھے جس کی وجہ سے ان پر کافی تنقید بھی کی گئی اور اسے بعض حلقوں نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بھی قرار دیا۔

برطانوی وزیر داخلہ جیکی سمتھ نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی آج ملاقات کی۔

اس ملاقات میں سید یوسف رضا گیلانی نے ہر قسم کی دہشتگردی اور انتہا پسندی کے سدباب کےلیے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کرنے کےلیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان چیلنجوں سے نمٹنے کےلیے مختصر اور طویل مدتی دونوں طرح کے اقدامات کرے گا۔ کیونکہ بقول ان کے پاکستان خود بھی اس کا شکار ہے۔

ملاقات کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے اس اعلان سے بہت متاثر ہوئی ہیں جس میں انہوں نے دہشت گردی کے مقابلے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’دو چیزیں جو میرے خیال میں ہمیں دہشت گردی کے مقابلے کے لیے کرنی چاہیں ان میں پہلے ہمیں دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی میں ملوث افراد کو پکڑنے کے تعاون کو جاری رکھنا ہوگا اور دوسرا دونوں ممالک میں تشدد کی حمایت کرنے والی سوچ اور نظریے کو چیلنج کرنا ہوگا‘۔

انہوں نے پاکستان کونسل آف دی آرٹس میں ’دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں‘ کے عنوان سے ایک خطاب میں کہا کہ وہ ان لوگوں کے لیے بول رہی ہیں جو تشدد کو مسترد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ اس اکثریت کی آواز زیادہ سنی جائے اور اس بابت پاکستان اور برطانیہ پہل کرسکتے ہیں۔ برطانوی وزیر کل وزارت داخلہ کے اہلکاروں سے ملاقات کریں گی۔

گیارہ ستمبر کے امریکی حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون میں کافی اضافہ ہوا ہے اور موجودہ دورہ بھی اس تعاون کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

سکیورٹی میں اضافہ
برطانوی سفارتی عملے کی سکیورٹی بڑھا دی گئی
اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف
02 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد